رسائی کے لنکس

طاہر اشرفی کی تردید، افغانستان سے معذرت کا مطالبہ

  • نیلوفر مغل

’وی او اے‘ کی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے، پاکستان علما کونسل کے سربراہ نے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا ہے کہ جب تک افغانستان کی وزارتِ خارجہ اور صدر کرزئی اِس پر معذرت نہیں کرتے وہ آئندہ افغانستان کے بارے میں کسی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے

ایک پاکستانی عالمِ دین اور پاکستان علما ٴکونسل کے سربراہ، مولانا طاہر اشرفی نے اُن سے منسوب اِس بیان کی سختی سے تردید کی ہے جِس میں مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک افغان ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا تھا کہ چونکہ افغانستان پر حملے کرنے والی نیٹو افواج غاصب ہیں، لہٰذا اُن کے خلاف خود کش حملے جائز ہیں۔

قطر سے، جہاں وہ اِس وقت مقیم ہیں، مولانا طاہر اشرفی نے ’وائس آف امریکہ ‘کی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے اِن الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ جب تک افغانستان کی وزارتِ خارجہ اور صدر کرزئی اِس پر معذرت نہیں کرتے ہم آئندہ افغانستان کے بارے میں کسی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ مولانا اشرفی اُس پاکستانی وفد کا حصہ ہیں جسے عنقریب پاکستان اور افغانستان کے علمائے دین کے ایک مشترکہ اجلاس میں شریک ہونا ہے جو پروگرام کے مطابق کابل میں ہوگا۔

اِس سے پہلے کی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ کہ افغان صدر حامد کرزئی نے مولانا اشرفی سے منسوب بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جِس میں مبینہ طور پر افغانستان میں خودکش حملوں کی حمایت کی گئی تھی۔
پیر کو کابل میں نیٹو کے سکریٹری جنرل راسموسن کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عالم دین کے اِس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ، بقول اُن کے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ نہیں ہے۔

خبروں کے مطابق، پریس کانفرنس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل نے بھی پاکستانی عالم دین مولانا طاہر اشرفی کے مبینہ بیان کی مذمت کی اور پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ، بقول اُن کے، اپنی سرحدوں کے آس پاس موجود شدت پسندوں کو لگام دینے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

پاکستانی علما کونسل کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی سےقطر میں رابطہ کیا گیاجِس کے دوران اُنھوں نے اُن سے منسوب بیان کی تردید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اُن کی کونسل اپنے پلیٹ فارم سے امن کی بات کرتی رہی ہے اور کونسل سنہ 2002 میں دہشت گردی کے خلاف فتویٰ بھی دے چکی ہے۔

ادھر، اسلام آباد میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے مولانا طاہر اشرفی سے منسوب بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اِس جانب توجہ دلائی کہ مولانا اشرفی اِس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ اُنھوں نے ایسا کوئی بیان دیا ہے جِس میں افغانستان کے اندر خودکش حملوں کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ نجی طور پر افراد جو بیان دیتے ہیں وہ حکومت پاکستان کے خیالات کی ترجمانی نہیں کرتے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان میں اِس جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ پاکستان نے اور ملک کے علما نے بار بار خودکش حملوں کی مذمت کی ہےاور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے عظیم مذہب کی تعلیمات کے منافی ہیں۔

پاکستان علما کونسل کے سربراہ کی بات چیت کی آڈیو سننے کے لیے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG