رسائی کے لنکس

کراچی کے 'مولوی مسافر خانے' میں شہری آباد


ایم اے جناح روڈ پر 120 سال سے قائم اس مسافر خانے کے اندرونی حصے میں اب 50 کے قریب مکانات اور کارخانے تعمیر ہیں، جبکہ اس کے بیرونی حصے میں شو مٹیریل اور ریگزین اور عطر کی دکانیں ہیں

قیام پاکستان کے بعد یوں تو بہت سی عمارتیں پاکستان کے حصے میں آئیں، لیکن ’منی پاکستان‘ کہلانے والے شہر کراچی میں بھی بےشمار عمارتیں ایسی ہیں جو ہندوں اور انگریزوں کی میراث ہوا کرتی تھیں۔ ایسی ہی ایک عمارت کراچی کی مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر قائم ’مولوی مسافر خانہ‘ کے نام سے بنے دھرم شالے کی بھی ہے جہاں مسافروں کی جگہ اب شہری آباد ہیں۔

برصغیر کے دور میں مسافرخانے کے طور پر استعمال ہونےوالا یہ دھرم شالہ اب شہریوں کی دسترس میں ہے۔ اس کے احاطے میں کئی دکانیں، مکانات اور پرنٹنگ پریس کارخانے بن گئے ہیں۔

کراچی کا یہ مسافرخانہ حاجی محمد مولا ڈینا نامی شخص نے سنہ 1893 میں اس دور کی شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر تعمیر کروایا تھا۔ اس دھرم شالے کی تعمیر کا مقصد غریب مسافروں کو رہائش کی مفت سہولت فراہم کرنا تھا، جہاں دوسرے شہروں سے آئے ہوئے غریب مسافر ٹہرا کرتے تھے۔

120 سال پرانی اس عمارت میں قیام پاکستان سے قبل تو یہاں مسافروں کی آمد ہوتی ہوگی۔

مگر پاکستان بننے کے بعد، حکومت نے اس مسافر خانے کو فعال نہیں رکھا۔

مسافر خانے کے اندرونی حصے میں مکانات اور کارخانے تعمیر ہیں جبکہ اسکے بیرونی حصے میں شو مٹیریل اور ریگزین اور عطر کی دکانیں قائم ہیں۔

مسافرخانے کے قریبی دکانداروں نے وی او اے کو بتایا کہ ’جب پاکستان وجود میں آیا تو یہ ایک کھلی جگہ تھی جہاں لوگوں نے ایسے ڈیرے ڈالے کے مسافر خانے کی شکل ہی بدل گئی۔ حکومت کو بھی اسکی بحالی کا خیال نہیں آیا۔ قیام پاکستان سے قبل تو اس مسافرخانے کا استعمال ہوتا ہوگا مگر انھوں نے بعد میں اس دھرم شالے کو کبھی فعال نہیں دیکھا۔ اور یہ کہ حکومت کی جانب سے اس کو کراچی میں آنےوالے دوسرے شہر کے مسافروں کی رہائش کیلئے استعمال کیا جایا کرتا تھا۔

مولوی مسافر خانے کے گیٹ کے پاس چٹائی بننےوالے ادھیڑ عمر شخص عبدالرحیم نے بتایا کہ وہ 50 سال سے یہیں بیٹھ کر کام کررہے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت جہاں اور عمارتوں میں لوگ آکر اباد ہوئے وہیں اس دھرم شالے میں بھی شہریوں نے اپنی جھونپڑیاں بنالی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے مکینوں نے ان جھونپڑیوں کو مکان کی شکل دے ڈالی تب سے اب تک یہ جگہ ایسی ہی ہے۔

ایک اور دکاندار کا کہنا تھا کہ، ’یہ جگہ ایک مسافر خانے کی ہے مگر یہاں 50 کے لگ بھگ مکانات اور کارخانے بن گئے ہیں۔ لوگوں نے مکانات اس طرح بنائے کہ اب صرف ایک تنگ گلی ہی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے حکومتی افسران نے بھی یہاں کا دورہ کیا مگر دکانیں ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ان دکانوں اور مکانات کو نہیں ہٹاسکا‘۔

کراچی میں بنے اس مولوی مسافرخانے کی بوسیدہ عمارت پر نصب مولوی مولا ڈینا دھرم شالہ کا نام اور اسکا دروازہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کسی زمانے میں مسافرخانہ ہوا کرتا تھا۔ مگر اب صرف اس کا نام ہی باقی رہ گیا ہے، جب کہ آج بھی یہ جگہ ’مولوی مسافرخانہ‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
XS
SM
MD
LG