رسائی کے لنکس

کائنات کے راز اور خلائی تسخیر: مے ون اور کیپلر


بات یہ ہے کہ ’معاملے کو جتنا سمیٹنے کے کوشش کی جا رہی تھی یہ اتنا ہی زیادہ پھیلتا گیا۔ پھر اس سال اس خلائی جہاز میں ایک فنی خرابی آگئی اور اس کے انجن کو خلا میں بند کرنا پڑا‘

عبدالعزیز بھائی، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کے کیا دوسرے سیاروں میں زندگی کے کوئی آثار ملے ہیں؟ کیا ان تمام سیاروں میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس پر کوئی زندہ مخلوق ہماری طرح آباد ہو ۔ یہ بات عقل کو حیران کر دیتی ہے کے اللہ تعلیٰ نے اتنی بڑی کائنات میں ہمیں بالکل اکیلا رکھا ہوا ہے اور اس میں گردش کرنے والے تمام ستارے بغیر کسی مقصد کے گھوم رہے ہیں۔ اس حوالے نے ناسا کیا کہتی ہے؟ عرفان حیدر، کراچی۔

عرفان بھائی، اگر آپ میری طرح 1975ءیا اس کے بعد پیدا ہوئے ہیں تو آپ کو Star Trekنامی وہ مشہور ٹی وی پروگرام ضرور یاد ہوگا جو PTVپر نشر ہوا کرتا تھا۔ ہمارے محلے کے تمام بچے اسے بہت شوق سے دیکھتے تھے۔ ناسا نے 2009ءمیں Keppler Missionلانچ کیا۔ کیپلر ایک ایسا خلائی جہاز تھا جس نے خلا میں نکل کر بالکل وہی کام کرنا تھا جو Star Trekکے مشہور جہاز Enterpriseکا ہوا کرتا تھا۔ یعنی، دنیاوٴں کو تلاش کرکے ان کی رپورٹ زمین کو بھیجنا۔

کیپلر مشن کے mission parametersبالکل وہی تھےجو Star Trekکی Enterpriseکے تھے مگر فرق یہ تھا کہ اس جہاز کو کیپٹن کرک یا ڈاکٹر سپاک جیسے کرداروں کے بجائے روبوٹ چلا رہے تھے۔ اس خلائی جہاز نے ہماری کائنات کے بارے میں کچھ ایسی معلومات بھیجی جو حیرت انگیز ہے۔

ابھی تک سائنس یہ سمجھتی ہے کہ کسی بھی سیارے پر زندگی صرف تب ہی ممکن ہے جب وہاں پانی دستیاب ہو۔ پانی کے بننے کے لیے اس سیارے کا اپنے سورج سے ایک مخصوص فاصلے پر گردش کرنا ضروری ہے۔ کیپلر نامی جہاز کا کام کائنات میں موجود کروڑوں اور اربوں نظام شمسی کی معلومات زمین پر بھیجنا تھا۔

پھر ان کے گرد گھومنے والے سیاروں میں سے ان سیاروں کو الگ کرنا تھا جو اپنے سورجوں سے اس مخصوص فاصلے پر ہوں جو Habitable Zoneکہلاتا ہے اور جہاں حیات ممکن ہے۔ یہ سیارے Goldilocks Planetsکہلاتے ہیں اور حیات کی موجودگی کے حوالے سے یہ Highest probability planetsتصور کیے جاتے ہیں۔

سنہ 2011ء میں دسمبر کی 20 تاریخ کو ناسا نے کیپلر مشن کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں یہ اعلان کیا گیا کے کیپلر نے ہماری دنیا سے ملتے جلتے دو سیارے دریافت کرلیے ہیں۔ ناسا نے ان کا نام Kepler 20Eاور Kepler 20Fرکھا۔اس وقت یوں معلوم ہو رہا تھا کہ یہ ایک بہت بڑی دریافت ہے۔ مگر چند ماہ بعد، یہ معلوم ہوا کہ ان جسے اور بھی بہت سے سیارے موجود ہیں۔ اسی دوران، سیتھ شوستاک نامی سائنسدان نے یہ بیان دیا کے ہماری دنیا سے ایک ہزار light yearsکے فاصلے کے ہی دائرے میں تیس ہزار Goldilocksسیارے ہیں۔پھر ناسا کی Jet Propulsion Labکی ایک رپورٹ نے بتایا کے صرف ہماری کہکشاں Milky Wayمیں دو ارب (2 billion)سیارے ایسے ہیں جہاں ہماری زمین کے طرز کی زندگی ممکن ہے۔ بعد میں Caltec Astronomersکی ایک رپورٹ آئی جس میں بتایا گیا کہ ہمای کہکشاں میں ان سیاروں کی تعداد2 billion نہیں بلکہ 100 billionسے لے کر 400 billionہے۔

یعنی معاملے کو جتنا سمیٹنے کے کوشش کی جا رہی تھی یہ اتنا ہی زیادہ پھیلتا گیا۔ پھر اس سال اس خلائی جہاز میں ایک فنی خرابی آگئی اور اس کے انجن کو خلا میں بند کرنا پڑا۔

اس کی آخری رپورٹ آنے تک ہماری ہی کہکشاں میں 400 billion planetsایسے تھے جہاں حیات ممکن تھی۔ ان تمام کے تمام سیاروں پر کسی بھی قسم کی حیات نہ ہونا ایک ایسیا اتفاق تھا جسے ریاضی کی زبان میں Extremely high improbabilityکہا جاتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG