رسائی کے لنکس

بھارت: کھانے میں چھپکلی، 300 طلبہ اسپتال میں داخل


فائل

فائل

اتنظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکول کے تمام طلبہ بخیریت ہیں اور ان میں سے بیشتر کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

بھارت کے شہر بنگلور میں حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانے والا زہریلا کھانا کھانے کے نتیجے میں ایک سرکاری اسکول کے 300 طلبہ کو اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔

اسکول کی استانی کے مطابق اسکول کو حکومت کی جانب سے معمول کے مطابق سات دیگیں فراہم کی گئی تھیں جن میں سے ایک دیگ سے چھپکلی برآمد ہوئی تھی۔

اسکول انتظامیہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دیگ سے پہلے ہی طلبہ کو کھانا فراہم کیا جاچکا تھا جسے کئی طلبہ کھا چکے تھے۔ چھپکلی برآمد ہونے کے بعد اسکول کے تمام طلبہ کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی۔

اتنظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکول کے تمام طلبہ بخیریت ہیں اور ان میں سے بیشتر کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

بنگلور کے اس اسکول کو حکومتی منصوبے کے تحت گزشتہ 10 برسوں سے طلبہ کے لیے دوپہر کا کھانا فراہم کیا جارہا تھا لیکن یہاں پیش آنے والا اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت روزانہ ملک بھر کے اسکولوں کے 10 کروڑ بچوں کو دوپہر کا کھانا مفت فراہم کرتی ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا فلاحی منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کو بھارت میں عوامی فلاح و بہبود کے چند کامیاب منصوبوں میں سرِ فہرست قرار دیا جاتا ہے اور سرکاری و غیر سرکاری حلقے اس کے زبردست حامی ہیں۔

اس منصوبے کے سبب بھارت کے لاکھوں غریب گھرانوں کے بچوں کو دن میں ایک وقت پیٹ بھر کے کھانا نصیب ہوتا ہے جس کے باعث ایسے کئی خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں جو ان کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے۔

لیکن ماضی میں بھی سرکار کی جانب سے اسکولوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے میں زہریلا مواد شامل ہوجانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

گزشتہ سال بھارتی ریاست بہار میں اسی منصوبے کے تحت فراہم کیا جانے والا کھانا کھانے سے ایک اسکول کے 23 طلبہ ہلاک ہوگئے تھے جس پر ریاست میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔

واقعے کی تحقیقات کے بعد پولیس نے انکشاف کیا تھا کہ کھانا فراہم کرنے والے ٹھیکیدار نے پکانے کا تیل کھاد کی بالٹی میں رکھا ہوا تھا جس کے استعمال سے کھانا زہریلا ہوگیا تھا۔

XS
SM
MD
LG