رسائی کے لنکس

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ایک تھنک ٹینک یو ایس آئی پی نے پاکستانی میڈیا اور اسے درپیش چیلنجز کے حوالے سے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ مزید تفصیلات مدیحہ انور سے۔

واشنگٹن ۔۔۔ گذشتہ بہت عرصے سے پاکستان میں اس بحث نے طول پکڑنا شروع کیا ہے کہ بظاہر سب کا احتساب کرنے والے میڈیا کا اپنا احتساب بھی ضروری ہے کہ نہیں؟ چند ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا کی حالت شتر ِ بے مہار جیسی ہوتی جا رہی ہے جو بغیر کسی حدود و قیود کے کام کر رہا ہے۔

مگر کیا یہ دلائل درست ہیں؟ کیا واقعی پاکستان میں میڈیا بے لگام ہوتا جا رہا ہے؟ کیا پاکستانی میڈیا کو اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے؟ گذشتہ دنوں واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک یو ایس آئی پی میں اسی موضوع پر ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان میں میڈیا کے حالات اور پاکستانی میڈیا کو درپیش چیلنجز جیسے موضوعات زیر ِبحث آئے۔

اس نشست کا باقاعدہ آغاز یو ایس آئی پی میں ساؤتھ ایشیاء پروگرام کے ڈائریکٹر معید یوسف نے کیا۔ معید یوسف نے شرکاء کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یو ایس آئی پی کے ساؤتھ ایشیاء پروگرام میں جنوبی ایشیائی ممالک سے متعلق تحقیق کے ساتھ ساتھ پاکستان پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ یہ ادارہ پاکستان سے متعلق مختلف موضوعات پر تحقیق کرتا ہے جن پر مقالے لکھے جاتے ہیں۔

معروف صحافی پامیلا کانسٹیبل نے اپنی تقریر میں پاکستان میں گزرے اپنے وقت کا ذکر کیا اور کہا کہ 1998ء میں جب وہ پہلی مرتبہ پاکستان گئی تھیں، تب اور اب کے پاکستان میں بہت فرق ہے۔

پامیلا کہتی ہیں کہ، ’پاکستانی میڈیا ابھی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور میڈیا کے مسائل اور نقص بہت واضح ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی میڈیا سماج کے لیے بہت سے مثبت اقدامات بھی کر رہا ہے اور عوام کی آواز بلند کرنے میں ان کا ساتھ دے رہا ہے‘۔

مذاکرے میں بی بی سی سے منسلک ہُما یوسف بھی شریک تھیں جن کا کہنا تھا کہ وہ دور چلا گیا جب محض سرکاری ٹیلی ویژن ہوا کرتا تھا اور لوگوں کے پاس خبریں سننے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔

ہما یوسف کا کہنا تھا، ’میڈیا کو آزادی 2002ء میں ملی تھی اور تب سے اب تک پاکستان میں 90 میڈیا چینلز کام کر رہے ہیں۔ ریڈیو سٹیشنز کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں 115 ایف ایم چینلز کام کر رہے ہیں۔ 70٪ عوام کو موبائل فون کی سہولت موجود ہے جبکہ 20 سے 30ملین افراد انٹرنیٹ تک دسترس رکھتے ہیں‘۔

ہما یوسف کا یہ بھی کہنا ہے کہ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں میڈیا میں بہت سی تبدیلیاں آئیں اور اب نہ صرف پرنٹ اور الیکٹرانک جرنلزم بلکہ سوشل میڈیا بھی اپنی جڑیں خوب پکڑ رہا ہے۔

ہما کہتی ہیں کہ، ’سوشل میڈیا سے وہ لوگ بھی اپنی آواز دنیا تک پہنچا رہے ہیں جنہیں میڈیا تک رسائی نہیں ہے۔ مگر سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کے ذریعے وہ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور اپنے مسائل کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں‘۔

پامیلا کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا مسئلہ پروفیشنلزم کا فقدان ہے۔ پامیلا کے بقول، ’پاکستانی میڈیا میں پرنٹ اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں حقائق سے زیادہ چیخنے چلانے پر زور دیا جاتا ہے جو جتنا چیختا ہے اسے اتنی ہی ریٹنگ مل جاتی ہے۔ لوگ کچھ بھی بول دیتے ہیں اور کسی بھی انداز میں کسی پر بھی تنقید کر لیتے ہیں۔ پروگرام shouting matches بنتے جا رہے ہیں‘۔

اس نشست کے شرکاء اس بات پر متفق دکھائی دئیے کہ پاکستانی میڈیا کی سمت درست کرنے کے لیے چند مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں میڈیا کو اپنی راہ متعین کرنی ہوگی اور اپنے آپ کو چند حدود و قیود کا پابند کرنے کے ساتھ ساتھ ورک ایتھکس کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تبھی میڈیا معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس رپورٹ کی مزید تفصیلات کے لیے نیچے دئیے گئے آڈیو لنک پر کلک کیجیئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG