رسائی کے لنکس

عالمی سطح پر آزادی صحافت کی صورتحال ابتر ہے: رپورٹ


سی پی جے کے مطابق گزشتہ سال مصر میں 23 صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا جو کہ چین کے بعد سب سے زیادہ مقید صحافیوں کی تعداد ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم "کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس" (سی پی جے) کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت لگ بھگ 200 صحافی جیلوں میں قید ہیں۔

فریڈم ہاؤس نامی تنظیم پہلے ہی اپنی تازہ رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ دنیا بھر میں آزادی صحافت انتہائی کم درجے تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں "صرف 13 فیصد آبادی آزادی صحافت پر کاربند ہے جہاں سیاسی امور کی بھرپور کوریج ہوتی ہے۔ صحافیوں کا تحفظ یقینی ہے، ذرائع ابلاغ میں ریاستی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے اور صحافت کو قانونی یا اقتصادی دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔"

رواں سال یونیسکو / گوئیلرمو کانو ورلڈ پریس فریڈم کا اعزاز حاصل کرنے والی خدیجہ اسماعیلووا بھی آذربائیجان میں ساڑھے سات سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

خدیجہ اسماعیلووا

خدیجہ اسماعیلووا

منگل کو فن لینڈ کے سب سے بڑے شہر ہیلسنکی میں صحافی اور میڈیا کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد آزادی صحافت کا عالمی دن منانے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

تھائی لینڈ پراوت روجاناپھرک بھی اس اجتماع کے لیے مدعو تھے لیکن ملک کی حکومت نے ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کردی ہے۔

ترکی میں بھی گزشتہ ایک برس سے آزادی صحافت شدید خطرے سے دوچار ہے اور اس دوران صحافتی اداروں اور صحافیوں کے خلاف سرکاری کریک ڈاؤن دیکھنے میں آچکا ہے۔

صحافیوں کے حقوق کی ایک اور تنظیم "رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز" نے اپنی رپورٹ میں ترکی کو آزادی صحافت کی صورتحال کی فہرست میں 180 ملکوں میں سے 151 نمبر پر رکھا ہے۔

ترکی میں لگ بھگ دو ہزار افراد جن میں نامہ نگار، نامور شخصیات، شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے اور طلبا بھی شامل ہیں، سے صدر رجب طیب اردوان کی ہتک کرنے یا پھر "دہشت گرد پروپیگنڈا" کے الزام میں پوچھ گچھ کا سامنا کر چکے ہیں۔

مشرقی اور جنوب افریقی ملکوں میں بھی صحافیوں شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گو کہ کینیا کے 2010ء کے آئین میں حکومت کو میڈیا کے امور میں مداخلت سے روکا گیا ہے لیکن ایسی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ یہاں صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ 2013ء میں حکومت نے ایک میڈیا کونسل بنائی تھی جو کہ صحافیوں پر سخت جرمانے عائد کرنے کے علاوہ پریس سے منظور شدہ ان کے کارڈز کو بھی منسوخ کر سکتی ہے۔

صدر السیسی کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر

صدر السیسی کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر

مصر میں صدر عبدالفتاح السیسی کی دور اقتدار میں آزادی صحافت کی صورتحال تنزلی کا شکار ہوئی ہے جو کہ اقتدار میں آنے کے بعد سے تین مرتبہ صحافیوں اور ادیبوں سے ذاتی طور پر مل چکے ہیں جس میں اطلاعات کے مطابق انھوں نے حکومت کی طرف سے متعین کردہ حدود کو واضح کیا۔

سی پی جے کے مطابق گزشتہ سال مصر میں 23 صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا جو کہ چین کے بعد سب سے زیادہ مقید صحافیوں کی تعداد ہے۔

تاہم گزشتہ ستمبر میں السیسی نے سی این این سے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ مصر میں اظہار رائے کی آزادی غیر معمولی ہے۔

چین میں بھی صحافیوں کے صورتحال مخدوش ہے جہاں معلومات کی فراہمی سے متعلق سخت قوانین متعارف کروائے گئے ہیں۔

روس سے بھی آزاد میڈیا کو خصوصاً موجودہ اقتصادی بحران کے تناظر میں مختلف طرح کے دباؤ کا سامنا ہے۔

لاطینی امریکہ میں گو کہ اکثریتی طور پر آزادی صحافت کا پاس کیا جاتا ہے لیکن بعض ممالک میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو (فائل فوٹو)

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو (فائل فوٹو)

وینزویلا کی حکومت نے میڈیا میں اپنے ناقدین کو خاموش کروانے کے لیے انتہائی اقدام کے طور پر اخبارات کو چھپائی کا کاغذ کی فروخت سے منع کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے درجنوں اخبارات کو اپنی اشاعت ملتوی کرنا پڑی جب کہ بعض تو بند بھی ہو گئے۔

فریڈم ہاؤس کے مطابق امریکہ میں آزادی صحافت کی صورتحال بہت بہتر ہے لیکن اس کے باوجود یہاں بعض صحافیوں کو خصوصاً صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم کے دوران مشکل وقت سے گزرنا پڑا ہے۔

"ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے انفرادی طور پر بعض صحافیوں اور صحافتی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔"

سی پی جے نے بھی جنگی معلومات سے متعلق پینٹا گان کے قانون پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس میں تنازعات کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں کو اس کی آڑ میں دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکی فوج کسی بھی صحافی کو بغیر شواہد، الزامات اور مقدمے کے حراست میں لے سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG