رسائی کے لنکس

ادویات کے خلاف قوت مدافعت کا بڑھنا، فوری اقدامات کی ضرورت

  • لیزا شلائین
  • انجم گل

ادویات کے خلاف قوت مدافعت کا بڑھنا، فوری اقدامات کی ضرورت

ادویات کے خلاف قوت مدافعت کا بڑھنا، فوری اقدامات کی ضرورت

کوڑھ، ٹی بی ، سوزاک اور سفلس کے علاج کیلئے اینٹی بائیوٹک ادویات کی دریافت نے طبی اور انسانی تاریخ بدل کررکھ دی تھی۔ تاہم اب ان ادویات کی تاثیر میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ ضرورت سےکم یا زیادہ یاپھر غلط استعمال سے اس دوا کی تاثیر میں کمی آتی جا رہی ہے

عالمی ادارہ برائے صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہر سال لاکھوں افراد جان لیوا امراض کیلئے استعمال ہونے والی ادویات کے خلاف قوت مدافعت بڑھنے سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

سات اپریل کو صحت کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارے نے ادویات کے خلاف قوت مدافعت کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئےفوری اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔
سنہ1928میں جب تک الیگزینڈر فلیمنگ نے دنیا میں پہلی اینٹی بائیوٹک دوائی ،پینسلین ایجاد نہیں کی تھی لاتعداد افراد عام زخموں اور انفیکشن سے لقمہ اجل بن جاتے تھے۔

مثال کے طور پر پہلی جنگ عظیم کے دوران18فی صد امریکی فوجی نمونیا ہونے کی وجہ سے مر گئے۔ تاہم پینسلین کی دریافت کے بعد دوسری جنگ عظیم کے دوران صرف ایک فیصد فوجی اس مرض کے سبب سے ہلاک ہوئے۔
عالمی ادارہ برائے صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اس معجزاتی علاج سے محروم ہونے کے کنارے کھڑی ہے۔عالمی ادارے کے ٹی بی سے بچاؤ نامی محکمے کےسربراہ ماریو راوگلیون نے اس دوائی کے خلاف مدافعت کو ایک عالمی خطرے سے تعبیر کیا ہے۔

اُن کے بقول، قوت مدافعت بڑھنے سے ہر سال لاکھوں افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ایسے متعدی امراض جو پہلے ٹھیک ہو جایا کرتے تھے ان پر قابو پانا خاصا مشکل کام ہے۔ ان میں سے کچھ افراد کے لئے ہم آج پھر اینٹی بائیوٹک دور سے پہلے کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ اور اب ہم دوبارہ 30اور 40کے عشرے میں پہنچ گئے ہیں۔
کوڑھ، ٹی بی ، سوزاک اور سفلس کے علاج کیلئے اینٹی بائیوٹک ادویات کی دریافت نے طبی اور انسانی تاریخ بدل کررکھ دی تھی۔ تاہم اب ان ادویات کی تاثیر میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ ضرورت سےکم یا زیادہ یاپھر غلط استعمال سے اس دوا کی تاثیر میں کمی آتی جا رہی ہے۔
ٹی بی، ملیریا، نمونیا اور ایچ آئی وی سمیت دیگرجان لیوا متعدی امراض کا علاج ، قوت مدافعت بڑھنے سے اب خطرےمیں پڑ گیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کے ای جی فوکوڈا کہتے ہیں اس دوا کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ گہری تشویش کا باعث ہے۔
فوکوڈا کے بقول، حتمی بات یہ ہے کہ قوت مدافعت بڑھنے کے حوالے سے مسائل میں اضافے کی رفتا ر حل تلاش کرنے کی نسبت زیادہ تیز ہے۔ میرے خیال میں کچھ امور تو بہت واضح ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ اس خطرے کا چٹکی بجاتےہی کوئی حل موجود نہیں ہے۔ دوسراکسی ایک اقدام سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا اور نہ کسی ایک اقدام سے اس مسئلےکو کم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک لوگ اینٹی بائیوٹک اور اینٹی مائیکرو بی ایل ادوایات پر انحصار کریں گے تو ان کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
عالمی ادارہ برائے صحت نے اس دوا سے علاج کو موثر بنانے کیلئے چھ نکاتی ایکشن پلان بنایا ہے۔ ادارہ اس دوائی کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے پر نظر رکھنے کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتا ہے۔ ادارے نے اعتدال کے ساتھ ایسی دواؤں کے استعمال ، متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے اوران کے خلاف تحقیق اور نئی ویکسین تیار کرنے کی سفارش کی ہے۔

تفصیل کے لیےآڈیورپورٹ سنیئے:



XS
SM
MD
LG