رسائی کے لنکس

ایشیائی پارلیمنٹ کی تشکیل سے متعلق کمیٹی کا اجلاس


اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے ممالک کو دہشت گردی، انتہا پسندی، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی کے مشترکہ چیلنجز کے لیے بھی مل کر کام کرنا ہوگا۔

ایشیائی پارلیمنٹ کے قیام کے لیے تقریباً 23 ممالک کے نمائندوں کا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں شروع ہوا جس میں مشترکہ پارلیمنٹ کی تشکیل سے متعلق جزیات زیر بحث آئیں گی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ایوان زیریں "قومی اسمبلی" کے اسپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ علاقائی امن و ترقی اور خوشحالی کے مقصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے ممالک کو دہشت گردی، انتہا پسندی، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی کے مشترکہ چیلنجز کے لیے بھی مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے بقول اقوام حل طلب مسائل کے پرامن حل کے لیے بھی ان ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں رابطوں اور اتحاد کا داعی ہے اور حال ہی میں شروع کیے گئے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ ایران، افغانستان، بھارت، وسطی ایشیا اور پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

یورپی یونین کی طرز پر ایشیائی پارلیمنٹ بنانے کی اس تجویز کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے یہ خیال ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کے اپنے دو ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات کے تناظر میں یہ مقصد مستقبل قریب میں کسی ٹھوس مقام تک پہنچتا دکھائی نہیں دیتا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ایوان بالا "سینیٹ" کے چیئرمین رضا ربانی نے خصوصی کمیٹی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایشیائی پارلیمنٹ کی تشکیل کے لیے ایک مثبت آغاز فراہم کرے گی۔

انھوں نے بھی ایشیائی ممالک پر زور دیا کہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی امنگوں کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں۔

اجلاس میں بھارت اور افغانستان سمیت 23 ممالک کے 70 سے زائد اراکین پارلیمنٹ اور مندوبین شریک ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG