رسائی کے لنکس

بدھ کو وزیراعظم نواز شریف کی امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں پاکستان کے خدشات کا اشارہ ملا ہے جس میں انہوں نے بھارت اور بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کا ذکر کیا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی جمعرات کو ملاقات میں دونوں رہنماؤں کی ترجیحات مختلف ہوں گی اور ہو سکتا ہے کہ ان کا علاقائی خدشات اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سمیت کسی معاملے پر اتفاق نہ ہو۔

صدر براک اوباما کہ ترجیحات میں خطے خصوصاً افغانستان میں انتہا پسندی پر قابو پانا ہے شامل ہے۔

وزیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ وہ اس ملاقات میں اپنے ملک کے ’’قومی مفاد‘‘ پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے حریف بھارت اور اس کے امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں فکرمند ہیں۔

دونوں ممالک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے پر اتفاق نہیں کریں گے۔

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ نواز شریف صدر اوباما کو بتائیں گے کہ پاکستان چھوٹے جوہری ہتھیاروں پر کوئی قدغن قبول نہیں کرے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے چار روزہ دورے کے دوران کوئی جوہری معاہدہ نہیں ہو گا۔ اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں کہا گیا تھا کہ اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ اور اس میں تیزی سے اضافہ امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اگست میں دو امریکی تحقیقی اداروں نے اطلاع دی تھی کہ 2025 تک پاکستان کے پاس دنیا میں تیسرا بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ ہو سکتا ہے۔

’کارنیگی انڈاؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس‘ اور ’سٹمسن سینٹر‘ نے کہا تھا کہ پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

ایک اور تحقیقی ادارے ’ولسن سینٹر‘ کے مائیکل کوگلمین نے کہا کہ ’’امریکہ کو صرف یہ تشویش ہے کہ پاکستان ایک بہت غیر مستحکم ملک ہے جہاں مختلف قسم کے بہت سے شدت پسند گروہوں نے پناہ لے رکھی ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی اداروں کے ان میں سے کچھ گروہوں کے ساتھ ناگوار تعلقات ہیں۔ پھر اس سب میں یہ بات بھی شامل کریں کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔‘‘

پاکستانی حکام نے جوہری پروگرام کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ اس کا مقصد بھارت کا مقابلہ کرنا ہے اور اس کی نوعیت دفاعی ہے۔

افغانستان پر تشویش

گزشتہ ہفتے، صدر اوباما نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کی رفتار کم کر رہے ہیں اور پانچ ہزار سے زائد امریکی فوجی غیر معینہ مدت تک افغانستان میں رہیں گے۔

یہ اعلان ایسے وقت کیا گیا جب طالبان نے افغانستان کے شمالی شہر قندور پر حملہ کر کے اس پر مختصر عرصہ کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ قندوز میں طالبان کے ساتھ پاکستانی شدت پسند بھی لڑائی میں شریک تھے۔ اوباما نے کہا ہے کہ وہ یہ مسئلہ نواز شریف کے سامنے اٹھائیں گے۔

گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جوش ارنسٹ نے کہا تھا کہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت میں پاکستان کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مگر نواز شریف کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے کہا کہ اگرچہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے پرعزم ہے مگر یہ فیصلہ افغان حکومت پر منحصر ہے کہ اسلام آباد کو اس میں کیا کردار ادا کرنا چاہیئے اور کیا اسے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ان پر اپنا محدود اثرورسوخ استعمال کرنا چاہیئے یا نہیں۔

پاکستان کے خدشات

بدھ کو وزیراعظم نواز شریف کی امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں پاکستان کے خدشات کا اشارہ ملا ہے جس میں انہوں نے بھارت اور بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کا ذکر کیا۔

نواز شریف کے ایک مشیر نے جان کیری کو تین دستاویزات دیں جن میں پاکستانی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان کی بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر سرحد پر ’’بلا اشتعال‘‘ فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے باضابطہ مذاکرات بھی معطل ہیں۔

امریکی حکام طویل عرصہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ جنگ کو روکنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ یہ جوہری جنگ میں نہ تبدیل ہو جائے۔

XS
SM
MD
LG