رسائی کے لنکس

ایک سوال کے جواب میں، حسین حقانی نے کہا کہ ہمارے ہاں کلچریہ بن گیا ہے کہ پہلے الزام لگایا جائے پھریہ کہا جائے کہ تم اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرو

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کے رویوں میں اصلاح کے

خواہشمند ضرور ہیں، لیکن بیرونِ ملک وہ کبھی ملکی مفاد اور اداروں پر تنقید نہیں کریں گے۔

اُنھوں نے یہ بات میمو کمیشن کے اجلاس کے اختتام پر ہفتے کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کی۔اُن کے بقول، ’انشا اللہ، میں کبھی بھی غیر ملکی سرزمین پر کھڑا ہو کر پاکستان کی مسلح افواج یا پاکستان کی قومی سلامتی کے کسی ادارے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد پر کوئی تنقید کبھی نہیں کروں گا‘۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچانا آسان نہیں رہا اور ایسا کرنے کے لیے اُن کے لیے سفارت کی قربانی دینا چھوٹی سی بات تھی۔

اُن کے الفاظ میں،’ لیکن، مجھے یہ بھی اطمینان ہے کہ اِس جوڈیشل کمیشن کی جو تحقیقات ہیں اُن سے بھی یہی ثابت ہوگا کہ رائی کے پہاڑ بناکر پاکستان میں اب جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا‘۔

میمو گیٹ اسکینڈل کےبارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حسین حقانی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ایک کلچر بنایا گیا ہے کہ پہلے الزام لگایا جائے،پھریہ کہا جائے کہ تم اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرو، جو کہ مہذب قوموں کا طریقہ نہیں ہے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میمو گیٹ اسکینڈل کے اہم گواہ منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ 2004ء میں حسین حقانی کے پاکستان کے بارے میں لکھے گئے اُن مضامین اُن کی راہنمائی کرتے رہے، جِن مضامین میں اُنھوں نے امریکی مفادات کا خیال رکھا تھا۔

اِس سوال پر کہ کوئی امریکی اُن کے دعووں کی تصدیق کیوں نہیں کرتا، منصور اعجاز نے کہا کہ امریکی سینیٹ کے کئی سینئر سنیٹرز اُن کا ساتھ دینا چاہتے تھے، لیکن میں نے اُنھیں منع کردیا، کیونکہ میرا کیس مضبوط ہے، ٹھوس شواہد کو میں نے جس انداز میں پیش کیا ہے اُنھیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

XS
SM
MD
LG