رسائی کے لنکس

سیاسی و فوجی قیادت کا میمو پر متضاد موقف برقرار


سیاسی و فوجی قیادت کا میمو پر متضاد موقف برقرار

سیاسی و فوجی قیادت کا میمو پر متضاد موقف برقرار

وفاق کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں جواب سیکرٹری داخلہ نے جمع کرایا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کے میمو کے حوالے سے انکشافات جھوٹ کا پلندہ ہیں اور اس خفیہ مراسلہ کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے جو فوج کے حوصلے کو پست نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں سیاسی حکومتوں اور فوج کے طاقتور ادارے کے کشیدہ تعلقات ماضی میں اکثر منتخب حکومتوں کی فوجی بغاوتوں کے ذریعے برطرفی اور ملک میں طویل آمرانہ دورِ اقتدار کی وجہ بنے ہیں۔

لیکن موجودہ عالمی تناظر اور خاص طور پر پاکستان میں حالیہ برسوں میں آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا نے صورت حال کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ ان ہی بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان حالیہ دنوں میں غیر معمولی کشیدگی کے باوجود فریقین نے فوجی بغاوت کے امکانات کو رد کیا ہے اور دونوں نے باہمی اختلافات کا حل ڈھونڈنے کا کام بظاہرعدالت عظمٰی پر چھوڑ رکھا ہے۔

اس مرتبہ فوج اور سول انتظامیہ میں تنازع کی وجہ اعلیٰ امریکی حکام کو ارسال کیا گیا وہ مبینہ میمو یا مراسلہ ہے جس میں امریکہ سے فوجی قیادت کی برطرفی کے سلسلے میں مدد مانگی گئی تھی۔ سپریم کورٹ میں ان دنوں کئی ایسی آئینی درخواستیں زیر غور ہیں جن میں میمو اسکینڈل کی تحقیقات کرا کے اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

حکومت اور فوج کی قیادت کو ان درخواستوں میں فریق بنایا گیا ہے۔ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کی طرف سے عدالت عظمٰی میں داخل کرائے گئے بیان حلفی میں دونوں نے میمو کو ایک حقیقت قرار دے کر اس کی تحقیقات پر اصرار کیا ہے۔ لیکن پیر کو وفاق کی طرف سے فوجی قیادت کے بیان حلفی کے جواب میں داخل کردہ جواب اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر راضی نہیں۔

سیاسی و فوجی قیادت کا میمو پر متضاد موقف برقرار

سیاسی و فوجی قیادت کا میمو پر متضاد موقف برقرار


وفاق کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں جواب سیکرٹری داخلہ نے جمع کرایا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کے میمو کے حوالے سے انکشافات جھوٹ کا پلندہ ہیں اور اس خفیہ مراسلہ کی حیثیت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے جو فوج کے حوصلے کو پست نہیں کر سکتا۔

وفاق نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ آرمی چیف نے اپنے بیان حلفی میں اعتراف کیا ہے کہ اُنھیں منصور اعجاز کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات کے بارے میں تمام واقعات کا علم 24 اکتوبر کو ہوا تھا لیکن اُنھوں نے فوری طور پر وزیراعظم کو ان تفصیلات سے مطلع نہ کرنے کی وجہ نہیں بتائی ہے جبکہ ایسا کرنا اُن پر لازم تھا۔ وفاق نے اپنے جواب میں وزیراعظم کو تاخیر سے یہ تفصیلات پہنچانے کے بارے میں سوال بھی اٹھایا ہے۔

اس سے قبل فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے بیان حلفی میں کہا تھا کہ میمو ایشو پر کی جانے والی قیاس آرائیوں کی روشنی میں اُنھوں نے 13 نومبر کو وزیر اعظم گیلانی سے ملاقات کر کے اُنھیں تجویز کیا تھا کہ میمو سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات انتہائی حساس نوعیت کی ہیں اس لیے وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پراس پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں واشنگٹن میں سفیر حسین حقانی کو پاکستان واپس بلایا جائے کیونکہ وہ ملک کی قیادت کو اس معاملے پر بہتر طور پر آگاہ کرسکتے ہیں۔

وفاق کی طرف سے جمع کرائے گے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملکی دفاع کے لیے فوج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس سلسلے میں شہریوں نے بھی جانیں قربان کی ہیں۔

دونوں اداروں میں کشیدگی گزشتہ اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب وزیراعظم گیلانی نے بالواسطہ طور پر فوجی قیادت پر جمہوری حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا جب کہ اس سے اگلے روز جنرل کیانی نے بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا اور کہا کہ ان کا مقصد حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔

لیکن فوج کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ قومی سلامتی کے اوپر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ان کا اشارہ بظاہر عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان حلفی کی طرف تھا جس میں انھوں نے متنازع میمو کو قومی سلامتی پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات پر اصرار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG