رسائی کے لنکس

خراب سماعت یاداشت کو خراب کردیتی ہے

  • جمیل اختر

خراب سماعت یاداشت کو خراب کردیتی ہے

خراب سماعت یاداشت کو خراب کردیتی ہے

اگرچہ عام طورپر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یاداشت کی خرابی اور دماغی صلاحیتوں کے انحصاط کا تعلق بڑھاپے سے ہے لیکن ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سماعت کی خرابی اور اونچا سننے کا مرض بھی اس میں اہم کردار ادا کرتاہے۔

سائنس دانوں کا کہناہے اونچا سننے کا مرض انسان کو بذات خود یاداشت کی خرابی یا دماغی انحصاط میں مبتلا نہیں کرتا، لیکن اگر یہ عمل شروع ہوچکاہو اور سماعت بھی خراب ہو دماغی صلاحیتیں کم ہونے کے عمل میں تیزی آسکتی ہے۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں 70 سال سے زیادہ عمر کا ہر دس میں سے ایک شخص کسی نہ کسی قسم کے دماغی انحصاط کا شکار ہے اور ماہرین کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ جب کہ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد یاداشت کی خرابی اور دماغی انحصاط میں مبتلا ہیں اور اگر اس کی روک تھام کے لیے نئی دوائیں اور علاج معالجے کے طریقے تلاش نہ کیے گئے تو 2040ء میں یہ تعداد ساڑھے آٹھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکی ریاست بالٹی مور میں قائم جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک ماہر ڈاکٹر فرینک لین کہتے ہیں کہ دماغی انحصاط تیزی سے بڑھنے والے امراض میں سے ایک ہے اور ہر 20 سال میں اس کے مریضوں کی تعداد دگنی ہوجاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ حالیہ مطالعاتی جائزوں سے پتا چلاہے کہ دماغی انحصاط کا مرض شروع ہونے میں ایک سال کی تاخیر کی جاسکے تو 2050ء تک ان مریضوں کی تعداد میں 10 فی صد تک کمی کی جاسکتی ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجنگ کے تحت چھ سو سے زیادہ افراد پر، جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل تھے، 12 سال تحقیق کی گئی۔ مطالعاتی جائزے سے قبل سب کی سماعتوں کے ٹیسٹ لیے گئے ۔ اس وقت ان میں سے کوئی بھی دماغی انحصاط میں مبتلا نہیں تھا۔

تاہم بعد ازاں تحقیق کے دوران نو فی صد افراد کسی انداز کے دماغی انحصاط کا شکار ہوگئے ، جن میں سے اکثر میں الزائمر کی علامات تھیں۔

تحقیق سے پتا چلا کہ جو افراد جتنا زیادہ اونچا سنتے تھے ، ان میں دماغی انحطاط یا الزائمر کی علامتیں اتنی ہی زیادہ شدید تھیں۔

ڈاکٹر لین کہتے ہیں کہ سماعت کی معمولی خرابی دماغی انحصاط اور یاداشت کی خرابی کے خطرے میں دگنا اضافہ کردیتی ہے۔ جب کہ جن رضاکاروں کی سماعت کی خرابی درمیانے درجے کی تھی ان میں یہ خطرہ تین گنا تھا۔ ان کا کہناتھا کہ سماعت بہت زیادہ خراب ہو تو دماغی انحصاط کا خطرہ پانچ گنا تک بڑھ جاتاہے۔

ڈاکٹر لین کہتے ہیں کہ سماعت خراب ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آپ دماغی انحطاط میں مبتلا ہوجائیں گے ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا امکان بڑھ جائے گا۔

اسی سلسلے میں 1980 کی دہائی میں کی جانے والی تحقیق سے بھی یہی نتائج سامنےآئے تھے اور حالیہ تحقیق اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے ایک رپورٹ کے مطابق 17 فی صد بالغ امریکیوں کی سماعت کسی نہ کسی سطح تک خراب ہے۔

ڈاکٹرلین کہتے ہیں کہ اگرآپ علاج کے ذریعے اپنی سماعت کی خرابی پر قابو پالتے ہیں تو اس کامطلب یہ ہے کہ آپ دماغی انحطاط کے مرض میں مبتلا ہونے کو کچھ مزید عرصے تک روک سکتے ہیں۔

آج کل سننے میں مدد دینے والے آلات باآسانی مل جاتے ہیں۔ جن کی مدد سے الزائمر اور یاداشت کی خرابی کے امکان کو کچھ عرصے کے لیے ٹالاجاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG