رسائی کے لنکس

خلائی حادثوں کا شکار ہونے والے خلابازوں کی یاد

  • سوزن پرسٹو
  • ندیم یعقوب

خلائی حادثوں کا شکار ہونے والے خلابازوں کی یاد

خلائی حادثوں کا شکار ہونے والے خلابازوں کی یاد

ہر سال جنوری میں امریکہ کا خلائی ادارہ ناسا ، مختلف مشنز کے دوران اپنی جانیں گنوانے والے خلابازوں کی یاد مناتا ہے۔ گزشتہ جمعے کے روز خلائی شٹل چیلنجر کے حادثے کو بھی 25 برس مکمل ہوئے ، جس میں سات خلاباز ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس سانحے کے بعدناسا نے اپنے خلائی مہمات کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے تھے۔

28جنوری 1986کو خلائی شٹل چیلنجر زمین سے فضامیں اٹھی اور پھر 73سیکنڈز کے بعد وہ ہوا جس کا کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔وائس آف امریکہ کے گریگ فلیکس حادثے کے وقت وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے وہاں ایک شگا ف سا دیکھا جہاں دونوں راکٹ دھواں چھوڑتے ہوئے ایک دوسرے سے الگ ہورہے تھے۔ اور پھر ہم نے ملبہ گرتے دیکھا جو میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے کئی خلائی شٹلز کی پروازویں دیکھی ہیں مگر ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔ ایک لمحے کے لیے مجھے خیال آیا کہ شاید آسمان صاف ہے میں معمول سے ذرا فرق دیکھ رہا ہوں ۔ اور پھر ہم نے ناسا کے کا اعلان سنا جس میں اناؤنسر کہہ رہا تھا کہ کوئی بڑی خرابی ہوئی ہے ۔ یہ الفاظ دل میں پیوست ہوگئے۔

سات خلابازوں کی ہلاکت نے امریکی صدر اور عوام کو غمزدہ کر دیا۔ اس وقت کے صدر نے اپنے خطاب میں کہاتھا کہ ہم انہیں کبھی نہیں بھولیں گے اور نہ ہی اس لمحے کو جب آج صبح ہم نے انہیں آخری مرتبہ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہتے دیکھا اور انہوں نے زمین کا ساتھ چھوڑ کر خدا کو چھو لیا۔

ان خلابازوں میں ایک عام شہری کرسٹا مک اولفی بھی شامل تھیں جو خلا میں جانے والی پہلی ٹیچر ہوتیں۔ امریکہ بھر میں بچوں نے اس سانحے کو ٹی وی پر دیکھا۔

واشنگٹن میں نیشنل ائیراینڈ سپیس میوزیم میں خلائی پروازوں سے متعلق آلات کی سربراہ ویلری نیل کا کہنا ہے کہ80 کے عشرے کے وسط تک امریکی عوام کے لئے خلائی پروازیں ایک معمول بن چکی تھیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ کسی بڑے سانحے کے بغیر شٹل نے 24پروازیں کیں۔اور یہ ایک روٹین سی بنتی جا رہی تھی۔لوگ ان پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے تھے۔خلائی پرواز ہمیشہ ہی تجربہ ہوتی ہے اور اس میں خطرہ بھی ہوتا ہے۔

چیلنجر کے واقعہ کے بعد ناسا نے پروازوں کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے کئی قواعد بنائے ۔

چیلنجر ناسا کا پہلا اور آخری حادثہ نہیں تھا۔ 27 جنوری سن 1967ءکو اپالوون کے تین خلابازلانچ پیڈ پرآگ لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ یکم فروری 2003ءکو خلائی شٹل کولمبیا زمین پر اترنے سے چند منٹ پہلے فضا میں پھٹ گئی اور اس پر سوار سات خلاباز ہلاک ہو گئے۔ ان افسوسناک حادثوں کے باوجود ویلری کہتی ہیں کہ خلائی پروگرام نےقابل قدر خدمات سر انجام دیں ہیں۔

ان کا کہناہے کہ ہمیں یہ کہنا اچھا نہیں لگتا کہ خلانوردی کی قیمت حادثے ہیں مگر کبھی کبھاریہ خلانوردی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خلائی پروگرام بند نہیں ہوا۔ ہم نے یہ کہہ کراس مشن کو ختم نہیں کیا کہ یہ بہت خطرناک ہے ہم اسے مزید جاری نہیں رکھیں گے۔ اور یہی میرے خیال میں امریکی عوام اور امریکی روح کو خراج تحسین ہے۔

خلائی شٹل کی اگلی پرواز فروری کے آخر میں متوقع ہے۔ پچھلے کئی ماہ کے دوران ڈسکوری کی پرواز کو مرمت اور نظرثانی کے لئے کئی بار منسوخ کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG