رسائی کے لنکس

تحقیق کا نتیجہ بہت واضح تھا کہ مرد چاہے وہ 30 برس کا تھا یا 60 برس کا دونوں کا حافظہ یاد رکھنے کے حوالے سے عورتوں کے مقابلے میں کمزور تھا۔

ایسی خواتین جنھیں شوہروں کی بھولنے کی عادت سے شکایت رہتی ہے انھیں یہ جان کرحیرت ہوگی کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ سائنسدانوں نے کہا ہے کہ مردعورتوں کےمقابلے میں بہت زیادہ بھلکڑ ہوتے ہیں۔

نارویجن یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ محققین کے لیے مطالعے کا نتیجہ حیران کن رہا کیونکہ اس سے قبل کبھی بھی مردوں کی بھولنے کی عادت کا کوئی تحریری ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا ۔

محقق جسٹائن ہولمین نے کہا کہ تحقیق کا نتیجہ بہت واضح ہے ہمارے لیے حیرانی کی بات یہ تھی کہ مرد چاہے وہ 30 برس کا تھا یا 60 برس کا دونوں کا حافظہ یاد رکھنے کے حوالے سے عورتوں کے مقابلے میں کمزور تھا۔

ناروے میں کی جانے والی تحقیق کو HUNT3 کا نام دیا گیا ہے جسےاب تک کا سب سے بڑا صحت کا مطالعہ بتایا گیا ہے اس جائزے میں 48,000 ہزار شرکا ء کی یاداشت کا معائنہ کیا گیا ۔

مطالعے کا حصہ بننے والے مرد و خواتین سے ان کی سوچ اور یاد رکھنے کے حوالے سے نو سوالات پوچھے گئے مثلاً کیا انھیں چیزوں کا نام اور تاریخ یاد رکھنے میں مشکل ہوتی ہے؟

کیا وہ اکثر بھول جاتے ہیں ؟ کیا ایک برس قبل کی کوئی بات بتا سکتے ہیں ؟

یا پھر تمام گفتگو کو پھر سے دہرا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

’بی ایم سی سائیکلوجی‘ میں شائع ہونے والے نتیجے کے مطابق مردوں کو نو سوالات میں سے آٹھ کے جوابات دینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔

ہولیمن نے کہا کہ مردوں پر بہت شک کیا جاتا ہے کہ ’’عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو یاد رکھنے میں کیوں اتنی دقت پیش آتی ہے لیکن اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے ہم اب بھی قاصرہیں اوریہ بات اب تک ایک راز ہی ہے‘‘۔

محققین کے مطابق اگرچہ عورتیں یاد رکھنے میں زیادہ تیز ہوتی ہیں لیکن ناموں اور تاریخوں کو یاد رکھنے میں انھیں بھی مشکل پیش آتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ تعلیم یافتہ افراد کا حافظہ قدرے بہتر ہوتا ہے جبکہ کم تعلیم یافتہ افراد میں یاداشت کی کمزوری کا امکان زیادہ پایا جاتا ہے۔

اس کےعلاوہ یاسیت اور پریشانی میں مبتلا افراد میں بھی بھلکڑپن کی عادت پختہ ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔

تحقیق کاروں نے معلوم کیا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں یاداشت کی کمزوری کا مسئلہ 60 برس کے بعد مزید خراب ہوتا جاتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG