رسائی کے لنکس

نئی تحقیق بتاتی ہے کہ باپ بننے سے ناصرف مردوں کی زندگی میں زیادہ مقصدیت اور ذمہ داری پیدا ہو جاتی ہے، بلکہ ان کے وزن میں بھی 2 سے 3 کلو کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

ماں بننے والی خواتین یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد وزن کو کم کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے، لیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ پہلی بار باپ بننے والے مردوں کو بھی اپنے وزن پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

نئی تحقیق بتاتی ہے کہ باپ بننے سے ناصرف مردوں کی زندگی میں زیادہ مقصدیت اور ذمہ داری پیدا ہو جاتی ہے، بلکہ ان کے وزن میں بھی 2 سے 3 کلو کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہ تحقیق پاب کے وزن میں اضافے کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی تھی لیکن نتائج نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے،جس کے بارے میں محقق ڈاکٹر گارفیلڈ کہتے ہیں کہ وہ مردوں کے اضافی وزن کے پیچھے چھپی ہوئی وجوہات کے بارے میں محض قیاس آرائی کر سکتے ہیں۔

'نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فائن برگ اسکول آف میڈسن' کے ماہر اطفال ڈاکٹر گریگ گارفیلڈ نے کہا کہ ایک آدمی جو باپ بنتا ہے۔ اس کی پوری زندگی تبدیل ہوجاتی ہے، وہ شاید اب کم سوتا ہے،کم ورزش کرتا ہے اور زیادہ دباؤ برداشت کرتا ہے اور یہ ساری وجوہات موٹاپے کی طرف قیادت کرتی ہیں۔

محققین جن کا کام 'امریکن جرنل آف مینس ہیلتھ' کے آن لائن شمارے میں منگل کو شائع ہوا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ پہلی بار والد بننے والے مردوں میں نمایاں طور پر وزن بڑھنے کا امکان تھا، جبکہ اس نتیجے کے برعکس جو مرد باپ نہیں تھے، ان کا وزن کم تھا۔

ایک پچھلے مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ شادی کے نتیجے میں مرد اپنے وزن بڑھا لیتے ہیں جبکہ غیر شادی شدہ مردوں کے مقابلے میں شادی شدہ مردوں میں موٹاپا زیادہ پایا جاتا ہے، لیکن حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ والد بننے کے بعد کا موٹاپا اس وزن سے اضافی ہے جو عام طور پر شادی کے بعد بڑھتا ہے۔

'تحقیق کی مصنف ڈاکٹر گریگ گارفیلڈ نے کہا کہ باپ بننا ایک نوجوان مرد کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر گارفیلڈ کے مطابق، والد بننے والے مرد کے وزن میں جتنا زیادہ اضافہ ہو گا، اس کا باڈی ماس انڈیکس یا بی ایم آئی بھی اتنا بڑھے گا اور اس کے ساتھ ہی ان کے لیے دل کی بیماری، ذیا بیطس اور کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔

تحقیق میں محققین نے ایک دوسرے مطالعے کے نتائج کو دیکھا ہے جس میں دو عشرے تک 10,253نو عمر نوجوانوں کی صحت کی نگرانی کی گئی تھی۔

محققین نے اپنے تجزیہ میں نو عمر لڑکوں اور نوجوان مردوں کے وزن کے پیٹرن پر اپنی توجہ مرکوز کی تھی، جبکہ بیس برس کی تحقیق کے دوران شرکاء کا چار بار وزن اور باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) ناپا گیا۔

تاہم محققین یہ دیکھنے کے قابل نہیں ہو سکے کہ نئے باپ بننے والے مردوں نے کس مرحلے پر وزن میں اضافہ کیا تھا۔

تحقیق کے شرکاء کو محققین نے تین زمروں رہائشی والد، غیر رہائشی والد اور اولاد سے محروم افراد میں تقسیم کیا۔

نتائج سے پتا چلا کہ بچوں کے ساتھ رہنے والے باپ مطالعے شروع ہونے کے وقت بھاری یا وزنی تھے، اور تحقیق کے اختتام پر بھی وہ اوسطاً ایسے مردوں کے مقابلے میں موٹے تھے، جو گھر سے دور تھے یا جن کے اپنے بچے نہیں تھے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ ایک 6 فٹ اونچے مرد نے پہلی بار والد بننے کے بعد اپنے وزن میں 4.4 پاونڈ یا 2 کلو وزن کا اضافہ کیا، اور ساتھ ہی ماہرین نے ان کے بی ایم آئی میں اوسطاً 2.6 فیصد اضافہ نوٹ کیا۔

تاہم محققین کو پتا چلا کہ غیر رہائشی والد جو بچوں کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ انھوں نے بھی وزن میں اضافہ کیا تھا یعنی ایک 6 فٹ لمبے باپ نے 3.3 پاونڈ وزن بڑھایا اور ان کے بی ایم آئی میں 2 فیصد اضافہ ظاہر ہوا ۔

محققین نے اگرچہ اپنے مطالعے میں والد بننے اور وزن کے درمیان تعلق کی وجوہات پر نظر نہیں ڈالی ہے، لیکن تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کریگ گارفیلڈ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر طرز زندگی کی تبدیلیاں اس کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

بقول ڈاکٹر گارفیلڈ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بچوں کی پلیٹوں سے بچا کچا کھانا صاف کرنا باپ کی بڑی کمزوری ہوتا ہے، اسی طرح گھر پر غذا کے انتخاب میں بتدریج تبدیلی آ جاتی ہے۔ والدین خاص طور پر بچوں کے لیے چاکلیٹ کے بسکٹ اور آئس کریم خریدتے ہیں اور پھر بچوں کے ساتھ خود بھی ان سے انجوائے کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ویسے بھی اگر آپ کے بچے ہوں تو آپ اپنی ذمہ داریوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، اور اپنی دیکھ بھال کے لیے وقت نہیں نکال پاتے ہیں، جیسا کہ آپ پہلے خود کو وقت دیا کرتے تھے، کیونکہ اب آپ کا خاندان آپ کی پہلی ترجیح بن جاتا ہے۔

تاہم ڈاکٹر گارفیلڈ نے تجویز پیش کی کہ پہلی بار والد بننے والے مردوں کو اگرچہ ذاتی معالج کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ماہر اطفال کو چاہیئے کہ انھیں احساس دلائیں کہ اپنے بچوں کی صحت کے علاوہ ان کے لیے اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG