رسائی کے لنکس

ایرانی خواتین کے ساتھ یکجہتی کی مہم میں مردوں نے حجاب پہن لیا


خواتین کے حجاب سے متعلق سخت قوانین کو اخلاقی پولیس کی طرف سے نافذ کیا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)

خواتین کے حجاب سے متعلق سخت قوانین کو اخلاقی پولیس کی طرف سے نافذ کیا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)

پچھلے ہفتے کے دوران ایران کے مردوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی بیوی یا خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ حجاب پہن کر اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں لیکن خواتین نے حجاب نہیں پہنا ہے۔

ایرانی حلقوں میں ان دنوں خواتین کو زبردستی پردہ کرانے کےخلاف ایک آن لائن مہم شروع کی گئی ہےجبکہ اس مہم کی حمایت میں مردوں نے بھی حجاب پہن کر حصہ لیا ہے۔

ایران میں مرد ملک بھر کی خواتین کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے فیس بک پرحجاب پہن کر اپنی تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں۔

پچھلے ہفتے کے دوران ایران کےمردوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی بیوی یا خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ حجاب پہن کر اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں لیکن خواتین نے حجاب نہیں پہنا ہے۔

ایران میں خواتین کے حجاب سے متعلق سخت قوانین کو اخلاقی پولیس کی طرف سے نافذ کیا جاتا ہے۔

ایران میں 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد ملک میں سخت گیر اسلامی قوانین نافذ کئے گئے تھے اور مذہبی لباس کی خلاف ورزی کرنے پر خواتین کو سزاؤں اور جرمانے کا سامنا رہا ہے۔

ایران میں حجاب کے فروغ کے لیے پوسٹرز اور بل بورڈز بھی لگائے گئے ہیں جبکہ پاسداران انقلاب کے مقرر کردہ طریقہ حجاب کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو اخلاقی پولیس کی طرف سے گرفتار کر لیا جاتا ہ۔.

لیکن حال ہی میں خواتین ملک میں نافذ حجاب کی پابندی کے خلاف آن لائن احتجاجی مہم چلاتی نظر آئی ہیں ۔

کچھ ماہ پہلے ایک ایرانی خاتون نے اخلاقی پولس سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنا سر منڈوا لیا تھا اور فیس بک پر'میری خفیہ آزادی' نامی صفحے پر اس تصویر کا اشتراک کیا تھا جس کا ایران میں بہت چرچا ہوا تھا ۔

فیس بک کا 'مائی اسٹیلتھی فریڈم' نامی صفحہ پاسداران انقلاب کی طرف سے مسلط کردہ حجاب کے خلاف ایرانی خواتین کی ایک آن لائن مہم ہے۔

یہ تصاویر نیویارک سے تعلق رکھنے والی ایک ایرانی سرگرم کارکن، مصنفہ اور صحافی مسیح علی نژاد کی آن لائن مہم کا حصہ ہیں, جنھوں نے مردوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلط کئے گئے حجاب کے خلاف خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کریں۔

محترمہ علی نژاد عورتوں کی خفیہ آزادی کی مہم چلا رہی ہیں اور اکثر اس صفحے پر ایرانی خواتین کی بغیر ہیڈ اسکارف پہنے لطف اندوز ہونے کی تصاویر پوسٹ کرتی ہیں۔

انھوں نے مردوں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹوئٹر کے صفحے پر ہیش ٹیگ میں ان حجاب کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کریں۔

انھیں مہم کی حمایت میں اب تک 30 مردوں کی تصاویر ملی ہیں جنھوں نے حجاب پہن رکھا ہے جبکہ کچھ مردوں نے انسٹا گرام پر بھی اپنی تصاویر کا اشتراک کیا ہے۔

محترمہ مسیح علی نژاد نے روزنامہ انڈیپینڈنٹ کو بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر مرد ایران میں رہتے ہیں اور وہ اپنی بیوی یا گھر کی کسی خاتون کے ساتھ اخلاقی پولس کی طرف سے کی جانے والی بدسلوکی اور توہین کے گواہ ہیں۔

ایران کی اخلاقی پولس سات ہزار مرد اور خواتین اہلکاروں پر مشتمل عورتوں کی خفیہ نگرانی کے لیے مخصوص ہے جو صرف لڑکیوں اور خواتین کی نگرانی کرتی ہے اور بناؤ سنگھار کی نمائش کرنے والیوں کو گرفتار کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG