رسائی کے لنکس

ازدواجی تعلقات کے مطالعے کی پروفیسر ڈبورا کار جنھوں نے تحقیق کی قیادت کی ہے، کہا کہ مرد اکثر اپنے کمزور جذبات کا اظہار کرنا پسند نہیں کرتا ہے جبکہ عورت کے لیے اپنے دکھ یا پریشانی کا اظہار کرنا آسان ہوتا ہے۔

ازدواجی مسائل سے مرد اور عورت دونوں کو چوٹ پہنچتی ہے لیکن ماہرین نفسیات کا کہنا ہے اس سے خواتین کو زیادہ چوٹ پہنچ سکتی ہے۔

ازدواجی تعلقات کے تجزیے کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں محققین نے دریافت کیا ہے کہ مرد اور عورت مختلف طریقے سے ازدواجی مسائل سے نمٹنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

تحقیق دانوں کے مطابق پچھلے مطالعوں میں بڑی عمر کے شادی شدہ جوڑوں میں اپنے چھوٹی عمر کے ساتھیوں کے مقابلے میں منفی جذبات کے اظہار کا امکان کم پایا گیا تھا۔

لیکن حالیہ مطالعہ نے یہ خیال تبدیل کر دیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ 30 سے 40 فیصد بڑی عمر کے شادی شدہ جوڑے روزمرہ کی بنیاد پر زیادہ جذباتی، غم زدہ اور دکھی ہونے کے ساتھ ساتھ نا اُمیدی کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف رٹگرز اور مشی گن یونیورسٹی کی طرف سے منعقد کی جانے والی تحقیق کے مطابق ازدواجی مسائل کے ساتھ عورت زیادہ فکر مند، دکھی اور مایوسی محسوس کرتی ہے جبکہ دوسری طرف مرد اپنے آپ کو صرف مایوس محسوس کرتا ہے۔

اسکول آف آرٹس اینڈ سائنسز کے شعبے سوشیالوجی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈبورا کار نے کہا کہ مرد اپنی مایوسی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ہے یا پھر وہ اپنی مایوسی کے بارے میں بہت زیادہ سوچتا ہے۔

ازدواجی تعلقات کے مطالعے کی پروفیسر ڈبورا کار جنھوں نے تحقیق کی قیادت کی ہے، کہا کہ مرد اکثر اپنے کمزور جذبات کا اظہار کرنا پسند نہیں کرتا ہے جبکہ عورت کے لیے اپنے دکھ یا پریشانی کا اظہار کرنا آسان ہوتا ہے۔

محقق ڈبورا نے کہا کہ مرد اور عورت شادی کے تجربے میں ازدواجی مسائل یا جذباتی حمایت کے لیے مختلف جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

انھوں نے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اکثر مسائل کے بارے میں شریک حیات کی طرف سے بات چیت کرنے یا تعاون کی پشکش پر اچھا محسوس کرتی ہے اور اس کے جذباتی ساتھ کو مثبت تجربہ قرار دیتی ہے۔

لیکن بیویوں کی طرف سے زیادہ جذباتی حمایت اور دیکھ بھال وصول کرنے والے بڑی عمر کے شوہر خود کو مایوس محسوس کرتے ہیں اوربیویوں کی طرف سے زیادہ مدد کی ضرورت پر خود کو مجبور اور کمزور محسوس کرنے لگتے ہیں۔

اسی حوالے سے مزید جاننے کے لیے محققین نے کم سے کم 39 برس پرانے ازدواجی تعلقات رکھنے والے 722 شادی شدہ جوڑوں کو تحقیق میں شریک کیا اور ان سے شادی کے تجربے اور شریک حیات کے رویے کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔

محقق ڈبورا کار نے کہا کہ ایک سادہ سی بات ہے کہ شریک حیات کی طرف سے زیادہ جذباتی حمایت حاصل کرنے والا شخص اپنے ساتھی کو بھی ویسی ہی جذباتی وابستگی فراہم کرتا ہے اور یہ رویہ منفی جذبات کے خلاف ان دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔

اس کے برعکس اپنے ساتھی کی طرف سے کم جذباتی حمایت حاصل کرنے والے شریک حیات کا رویہ خود بخود منفی یا تنقیدی ہو جاتا ہے جس سے دوسرا فریق فکر مند دکھی یا مایوسی محسوس کرتا ہے۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ان جوڑوں میں منفی جذبات کے لیے صنفی فرق کی بہت کم سطح تھی لیکن یہ فرق اداسی کے لیے ابھر کر سامنے آیا۔

بیویوں نے شوہروں کے مقابلے میں زیادہ اداسی کی رپورٹ کی جبکہ مردوں نے عورتوں کی نسبت اپنی شادی کو زیادہ مثبت خیال کیا اسی طرح شوہروں کی طرف سے خود کو جذباتی طور پر زیادہ حمایت یافتہ اور کم ازدواجی دباؤ کا شکار بتایا۔

محققین نے کہا کہ جب ہم نے ازدواجی معیار کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا الگ الگ جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ازدواجی کشیدگی میاں اور بیوی دونوں کے لیے اعلیٰ درجے کی مایوسی کا سبب تھی۔

تاہم ازدواجی مسائل کا دباؤ عورتوں میں نمایاں طور پر دکھ اور فکر کے ساتھ منسلک تھا۔

پروفیسر ڈبورا کار کے مطابق یہ تحقیق شوہروں اور بیویوں کے درمیان ازدواجی مسائل کی وجہ سے ذہنی مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG