رسائی کے لنکس

میری کہانی: ’بس، کوئی ہاتھ بٹانے والا مل جائے‘

  • شہناز عزیز

بڈگام، کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’وترہیل‘ میں رہنے والے نظیر احمد بیگ نے اپنے بچوں کی کہانی لکھی ہے۔ یہ خاندان، اپنے ایسے تین بچوں پر تمام وسائل خرچ کر چکا ہے، جو اب بڑے ہوگئے ہیں۔ لیکن وہ کبھی بھی نارمل زندگی گزارنے کے اہل نہیں ہو سکے

’میری کہانی‘ میں کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ کہانی کار نے کاغذ پر لفظ نہیں لکھے بلکہ اپنا دل نکال کر رکھ دیا ہے۔

ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں لکھی یہ کہانیاں بار، بار، ہمارے اس یقین کو تازہ کرتی ہیں کہ ماں باپ اپنی اولاد کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔

بڈگام، کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’وترہیل‘ میں رہنے والے نظیر احمد بیگ نے اپنے بچوں کی کہانی لکھی ہے۔ یہ خاندان، اپنے ایسے تین بچوں پر تمام وسائل خرچ کر چکا ہے، جو اب بڑے ہوگئے ہیں۔ لیکن وہ کبھی بھی نارمل زندگی گزارنے کے اہل نہیں ہو سکے۔

اس بے غرض محبت میں ان کے دوسرے بہن بھائی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اب بھی ہار نہیں مانی۔ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ کوئی ہاتھ بٹانے والا مل جائے۔ کیا آپ اپنا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں! نیچے دئے ہوئے لنک پر کلک کرکے ان کی کہانی سنئے۔

گر آپ میں سے کسی کو اس علاقے میں کسی ایسے ادارے کا پتہ ہو جو مدد کر سکے، تو اپنا فون نمبر ہمیں آواز دوست، میری کہانی کے فیس بک پیج پر میسیج کریں، تاکہ ہم آپ کو اپنے شو میں شامل کر سکیں۔

تفصیل سننے کے لیے، آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG