رسائی کے لنکس

باہمت نوجوان رحمت علی شاہین کی کہانی

  • شہناز عزیز

انتہائی غربت کے باوجود چھوٹے موٹے کام کرکے اس نوجوان نے ایف اے پاس کرلیا اور اب وہ اپنے بےاے کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے

چار اپریل کے پروگرام ’میری کہانی‘ میں پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’حسنہ‘ کے ایک نوجوان رحمت علی شاہین نے اپنی کہانی سنائی۔

رحمت علی بچپن میں ہی ٹانگوں سے معذور ہوگئے تھے اور اُن کی باہمت ماں اُنھیں گود میںٕ اُٹھا کر اسکول لے جاتی تھیں۔

انتہائی غربت کے باوجود چھوٹے موٹے کام کرکے اس نوجوان نے ایف اے پاس کرلیا اور اب وہ اپنے بےاے کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔

لیکن، اس کی انتھک محنت اور عزم کے باوجود اسے کوئی معقول نوکری نہیں مل سکی اور وہ ایک پرائمری اسکول میں عارضی ٹیچر کی جاب سے بمشکل ماہوار ایک ہزار روپے سے بھی کم کما پاتے ہیں، جب کہ گھر کی ذمہ داری بھی اب اُن کی ہے۔ ساتھ ساتھ وہ درزی کا کام بھی کرتے ہیں۔

پاکستان کے معروف سیاست داں، راجہ ظفر الحق اس پروگرام میں ہمارے مہمان تھے جنھوں نے رحمت علی کی کہانی کو ہزاروں نوجوانوں کی کہانیوں سے تعبیر کیا، جنھیں سسٹم نے مایوس کیا ہے۔

راجہ ظفر الحق ’مؤتمر العالم الاسلامی‘ کے ایک سرکردہ رُکن ہیں۔

اُنھوں نے اس ادارے کی جانب سے رحمت علی شاہین کے لیے ہر ماہ پانچ ہزار روپے کے وظیفے کا اُس وقت تک کے لیے وعدہ کیا جب تک وہ بی اے پاس نہیں کرلیتے۔

اُنھوں نے رحمت کے لیے نوکری ڈھونڈنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

تو سامعین، یہ تھا جدوجہد کی ایک کہانی کا ایک خوبصورت انجام۔

یہ اور دوسری کہانیاں سننے کے لیے، اس لنک پر ’کلک‘ کیجئیے:

XS
SM
MD
LG