رسائی کے لنکس

ایک ماں کی دل دہلا دینے والی کتھا


شاید اس ماں کی داستاں ہم میں سے کسی کے دل کو اسی انداز میں چھُو سکے جیسے زین العابدین کی بنائی ہوئی تصویروں نے دنیا کے ضمیر کو اپنی تصاویر کے ذریعے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔۔۔

رواں ہفتے ’میری کہانی‘ میں ہم نے آپ کو سنوائی مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والی ماں کی ایسی دکھ بھری داستان جسے سن کر کوئی بھی گداز دل دہل سکتا ہے۔ مشکلات سے دوچار ایک ایسی عورت کی داستان جسے قدم قدم پر مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی زندگی کا مقصد ان مصائب سے لڑنا اور ان کے خلاف جدوجہد کرنے سے عبارت رہا۔

میں سوچتی ہوں کہ ’میری کہانی‘ کے ذریعے ان کہانیوں کو آپ تک پہنچانے کا بھی تو ایک مقصد ہے۔ ایک ایسا مقصد جو شاید آپ میں اور ہم میں سے ہی کسی انسان کو اس دکھ بھری ماں کی مدد اور اس کے زخموں پر مرہم لگانے تک لے جائے۔۔۔ شاید اس ماں کی داستاں ہم میں سے کسی کے دل کو اسی انداز میں چھُو سکے جیسا زین العابدین کی بنائی ہوئی تصویروں نے دنیا کے ضمیر کو اپنی تصاویر کے ذریعے جھنجھوڑ ڈالا تھا ۔۔۔ بنگال کے مایہ ناز آرٹسٹ زین العابدین نے 1943ء میں پڑنے قحط کی منظرکشی اپنے کینویس پر کچھ اس انداز میں کی تھی کہ دنیا حیران رہ گئی تھی۔

اسی پروگرام میں ہم نے آپ کی ملاقات کرائی انسانوں سے پیار کرنے والے ڈاکٹر، پروفیسر احمد اعجاز مسعود سے، جو ملتان کے نشتر میڈیکل کالج میں کینسر کے شعبے کے سربراہ ھیں۔۔ انکی تصویر اس صفحے پر موجود ہے، رضیہ بی بی اور ان کے بچوں کی کوئی تصویر مجھے نہیں مل سکی، لیکن زین العابدین صاحب نے تو دنیا کی کسی بھی ماں اور اس کے بچوں کی بھوک کی تصویر بنائی ہے!!!

ڈاکٹر اعجاز کی گفتگو سے آپ کینسر کے علاج کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرسکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ کینسر جیسے موذی مرض سے بچاؤ کیونکر ممکن ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔

پروگرام سننے کے لئے نیچے دئے ہوئے لنک پر کلک کیجئے۔
XS
SM
MD
LG