رسائی کے لنکس

میری کہانی: ایک پُر عزم نوجوان کی کہانی

  • شہناز عزیز

ایک غریب گھر کا نوجوان، جس کے والدین بچپن میں ہی اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ مگر اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے گھر کے کفیل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور نبھائیں۔

اس تصویر میں ملگجے کپڑوں میںِ مٹی سے اٹے ہوئے اور محنت سے کھُردرے ہاتھوں کے ساتھ جو نوجوان آپ کو نظر آ رہا ہے وہ مظفر گڑھ کے ایک گاؤں میر ہزار خان کا رہائشی محمد عمران صدیق ہے۔ عمران نے اپنی کہانی میں بتایا کہ پانچ بہن بھائیوں پر مشتمل اُن کا خاندان اُس وقت باپ سے محروم ہو گیا تھا جب عمران کی عمر پانچ سال تھی اور دونوں بہنیں بالکل ننھّی منّی تھیں۔ ماں نے کپڑے سی کر بچوں کا پیٹ پالا اور ان کو سکول بھیجا۔ ماں کا خواب تھا کہ یہ بچے پڑھ لکھ کر غربت کے چکر سے باہر نکل آئیں۔ لیکن پھر ایک رات ماں کے پیٹ میں شدید درد اٹھا اٹھا اور وہ کئی روز تڑپتی رہیں۔ جب آخر کار وہ انہیں سرکاری اسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کا اپنڈکس پھٹ گیا ہے اور وہ اسی رات اپنے بچوں کو چھوڑ کر چلی گئیں۔ عمران نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مل کر گھر کی ذمہ داری اٹھائی۔ دونوں بھائی موچی کا کام کرنے لگے۔ اور ساتھ ساتھ عمران نے اسکول جانا بھی شروع کیا۔

اس ذہین بچے نے سکول سے لے کر ایف اے تک ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ لیکن پھر گھر کے حالات اور بگڑ گئے۔ اور ساتھ ہی چھوٹی بہن کی شادی کی تاریخ بھی مقرر ہو گئی۔ عمران آگے پڑھنے کا خواب ادھورا چھوڑ کر پشاور چلا گیا جہاں شوکت خانم میموریل اسپتال کی تعمیر ہو رہی تھی اور وہاں جاکر مزدوری شروع کی۔

عمران کہتا ہے، ’صبح سویرے اٹھ کر، سخت سردی میں رات دیر تک کام کرتا ہوں۔ یہ پہاڑی علاقہ ہے، زمین سخت ہے، میرے ہاتھوں سے خون بہنے لگتا ہے لیکن راوی کنسٹرکشن کمپنی کے مالکان بہت اچھے ہیں۔ مزدوروں سے ان کا رویہ بہت نرم ہے اور ہر ایک کو پورا پورا معاوضہ ملتا ہے‘۔

اپنی محنت سے عمران نے اپنی بہن کی شادی کے لیے 25 ہزار روپے جمع کر لیے ہیں۔ عمران نے وی او اے کے پروگرام میں اپنی کہانی میں 50 ہزار روپے کے قرض کی اپیل کی ہے۔ عمران کا کہنا ہے، ’میں وعدہ کرتا ہوں کہ چند مہینوں میں ایک ایک پیسہ ادا کردوں گا لیکن میں اپنی بہن کو اسی عمر میں رُخصت کرنا چاہتا ہوں جیسے میرے امّی اور ابّا کرتے‘۔

میں نے عمران کی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک خواجہ طارق محمود سے رابطہ کیا کہ آیا وہ اسے قرض دے سکتے ہیں۔ طارق محمود صاحب نے ہمارے لائیو پروگرام میں شرکت کی اور عمران کو بتایا کہ وہ خود غریب والدین کی اولاد ہیں۔ اور اُنکے والد انہیں میٹرک کے بعد پڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ لیکن پھر ایک مہربان شخص نے یہ ذمہ داری اٹھائی۔ انہوں نے اعلیٰ نمبروں سے انجینئیرنگ کی تعلیم حاصل کی اور پھر یہ کمپنی قائم کی۔ اور اب اپنے مہربان کے قرض کو، وہ کئی غریب بچوں کو پڑھا کر اتار رہے ہیں۔ انہوں نے عمران کو بتایا کہ بی اے کرکے ملازمت نہیں ملتی۔ وہ کسی اور شعبے میں تکنیکی تعلیم حاصل کرے، جس کا پورا خرچ وہ اٹھائیں گے۔

وائس آف امریکہ کی رپورٹر شہناز عزیز نے عمران سے پوچھا، ’دونوں آپشنز آپ کے سامنے ہیں تعلیم یا قرض؟ ۔۔۔ ایک سمجھ دار نوجوان ہونے کی وجہ سے عمران، طارق صاحب کی مجبوری سمجھ گیا کہ وہ کسی ایک شخص کو کمپنی کی پالیسی کے بغیر قرض نہیں دے سکتے تھے لیکن اسے ذاتی طور پر پڑھا کر وہ اسکے مستقبل کو بہتر بنا سکتے تھے۔

عمران نے رُندھی ہوئی آواز میں خواجہ طارق محمود کا شکریہ ادا کیا اور کہا، ’قرض کی یا تعلیم کے اخراجات اٹھانے سے بھی بڑی بات خواجہ صاحب کی انسانیت ہے۔ جب انہوں نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا تو میں کام کر رہا تھا۔ میرے کپڑے گندے اور ہاتھ مٹی سے بھرے تھے اس لیے میں نے دور سے سلام کیا۔ خواجہ صاحب نے پیار سے کہا یہاں آؤ مجھ سے ہاتھ ملاؤ۔۔۔ میں ان کی اس شفقت اور انسانیت کو ان کا احسان سمجھتا ہوں‘۔

مزے کی بات یہ ہے کہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ پروگرام کے دوران عبدالعزیز صاحب نے لاڑکانہ سے فون کیا اور عمران کو قرض دینے کا وعدہ کیا اور یوں ایک اور کہانی، خوشی کے آنسوؤں سے ختم ہوئی۔

یہ پروگرام سننے کے لیے نیچے دئیے گئے آڈیو لنک پر کلک کیجیئے۔

XS
SM
MD
LG