رسائی کے لنکس

مہاجرین کی آمد، یورپ اور ترکی کے درمیان تعاون پر زور


فائل

فائل

جرمن چانسلر نے کہا کہ یورپ کو ترک حکومت کے تعاون سے ان علاقوں کی صورتِ حال بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے جہاں کے رہائشی اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں یورپی ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرخیل نے کہا ہے کہ لاکھوں پناہ گزینوں کی یورپ آمد سے پیدا ہونے والے بحران سے نبرد آزما ہونے کےلیے یورپی یونین کو ترکی کے ساتھ قریبی تعاون کرنا چاہیے۔

جمعرات کو جرمن پارلیمان کے ایوانِ زیریں سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ مرخیل نے کہا کہ یورپ آنے والے بیشتر مہاجرین ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہورہے ہیں اور اسی لیے اس مسئلے سے نبٹنے میں ترکی کا کردار اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کو ترک حکومت کے تعاون سے ان علاقوں کی صورتِ حال بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے جہاں کے رہائشی اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں یورپی ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔

جرمن چانسلر جمعرات کو برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گی جو لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں اور مہاجرین کی یورپ آمد سے پیدا ہونے والے بحران پر غور کےلیے طلب کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے دیگر ملکوں کے ساتھ مذاکرات کے بعد یونان نے پانچ سرحدی گزرگاہوں پر پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے مراکز قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ترکی کی طرح یونان بھی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے جنگ زدہ علاقوں سے یورپ جانے والے پناہ گزینوں کے راستے میں پڑتا ہے۔

یونانی حکومت نے یورپی یونین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مہاجرین کی رجسٹریشن کا پہلا مرکز جزیرہ لیسبوس میں آئندہ چند روز کے دوران فعال ہوجائے گا۔

گزشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے بڑی تعداد میں مہاجرین کو قبول کرنے والے یورپی یونین کے سرحدی ممالک اور یونین کی جانب سے ان کی امداد کو سراہا تھا۔

لیکن عالمی ادارے نے خبردار کیا تھا کہ یورپی یونین اس بات کو یقینی بنائے کہ مہاجرین کی رجسٹریشن کے لیے قائم کیے جانےو الے نئے مراکز "قید خانوں" میں تبدیل نہ ہوجائیں۔

XS
SM
MD
LG