رسائی کے لنکس

حالیہ اعداد و شمار کے بعد سعودی عرب میں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی کل تعداد 272 ہو گئی ہے جبکہ 81 افراد اس مرض کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔

سعودی عرب نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں MERS وائرس (مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم) کے مزید 11 کیسز سامنے آئے ہیں۔

سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ ِ مکرمہ میں بھی ایک نیا کیس سامنے آیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت ِ صحت کے مطابق 11 مریضوں میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے اور وہ آئی سی یو میں داخل ہیں جبکہ دو مریضوں کی حالت قدرے بہتر ہے۔ ان مریضوں میں مکہ ِ مکرمہ سے اس وائرس کا پہلا کیس بھی سامنے آیا ہے جو کہ ایک 24 سالہ شخص کا ہے۔

سعودی عرب کے مطابق تین مریض طبی سہولیات کے مرکز پر کام کرتے تھے جو اس وائرس سے متاثر ہوئے۔

گذشتہ کئی ہفتوں میں سعودی عرب میں اس وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کیسز سعودی عرب کے دوسرے بڑے شہر جدّہ میں نوٹ کیے گئے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار کے بعد سعودی عرب میں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی کل تعداد 272 ہو گئی ہے جبکہ 81 افراد اس مرض کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں اس وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی ایک وجہ عمرہ سیزن بھی ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان سعودی عرب میں مقدس شہر مکہ کا رخ کرتے ہیں۔

MERS نامی مہلک وائرس کا تعلق SARS وائرس کے خاندان سے بتایا جاتا ہے جو 2002ء میں چین میں سامنے آیا تھا اور جس کے باعث دنیا بھر میں 800 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

MERS وائرس مشرق ِ وسطیٰ میں سامنے آیا اور اب تک اس کے زیادہ تر مریض بھی مشرق ِ وسطیٰ میں ہی نوٹ کیے گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG