رسائی کے لنکس

ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر میکسیکو میں بین الاقوامی کانفرنس


سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ سیلاب، خشک سالی، طوفان اور سمندر کی سطح میں اضافے کا موجب بن سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ سیلاب، خشک سالی، طوفان اور سمندر کی سطح میں اضافے کا موجب بن سکتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پرعالمی کانفرنس پیر کو میکسیکو میں شروع میں ہوئی جس میں تقریباً دو سو ممالک کے نمائندے اس سے متعلقہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر اتفاق کریں گے۔

تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے تعاون سے منعقد کی گئی ہے جس کا مقصد مذاکرات کے اس عمل کو آگے بڑھانا ہے جوگذشتہ سال کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں ماحول میں حدت میں کمی کے لیے کسی سمجھوتے پر اتفاق رائے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

کانفرنس کے شرکا نے اس امید کا اظہار کیا وہ ترقی پذیر ملکوں کے لیے ترقی یافتہ ملکوں سے’گرین‘ٹیکنالوجی کے حصول اور غریب ملکوں کو اپنے ہاں جنگلات کے تحفظ کے لیے اعانت فراہم کرنے کے نظام پر کسی سمجھوتے پر اتفاق رائے قائم کرلیں گے۔

اس سالانہ کانفرنس کا بنیادی مطمع نظر موجودہ کیوٹو پروٹوکول کا فروغ ہے جس کے تحت2012ء تک تمام صنعتی ممالک کو گرین ہاؤس گیسوں میں مقررہ حد تک کم کرنا ہے۔گو کہ امریکہ نے اس سمجھوتے کی توثیق نہیں کی اور نہ ہی وہ ایسا کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار رواں سال کے اوائل میں یہ کہہ چکے ہیں کہ میکسیکو کانفرنس میں کسی بین الاقوامی سمجھوتے پر پہنچنا بہت مشکل نظر آتا ہے لیکن انھوں نے توقع ظاہر کی تھی کہ 2011ء میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی کانفرنس میں کسی مکمل قانونی سمجھوتے پر اتفاق ہوسکتا ہے۔

میکسیکو میں ماحولیاتی تبدیلی پر عالمی کانفرنس ایک ایسے سال منعقد ہورہی ہے جو انیسویں صدی میں ریکارڈ رکھنے کا عمل شروع ہونے کے بعد سے گرم ترین برس تصور کیا جارہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ سیلاب، خشک سالی، طوفان اور سمندر کی سطح میں اضافے کا موجب بن سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG