رسائی کے لنکس

یوکرین: ایم ایچ 17پرواز، پرزے روسی میزائل کے ہو سکتے ہیں


فائل

فائل

استغاثہ نے کہا ہے کہ یہ پرزے فوجداری چھان بین کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے ایم ایچ17 پرواز کے حادثے کے سلسلے میں مزید معلومات فراہم ہوں گی۔۔ اور یہ کہ الاقوامی ماہرین کی مدد سے، جن میں فورینسک اور اسلحے کے ماہرین شامل ہیں، اِن پرزہ جات کے ماخذ کا معاملہ طے ہو سکتا ہے

گذشتہ سال مشرقی یوکرین میں گر کر تباہ ہونے والی ملائیشن ایرلائنز کی پرواز 17ایم ایچ کی چھان بین کرنے والے تفتیش کاروں نے پرزے برآمد کیے ہیں، جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ یہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے روسی میزائل کے ہوسکتے ہیں۔

ڈچ وکلائے استغاثہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تفتیش کار جن کا تعلق بیلجئیم، آسٹریلیا، یوکرین، ملائیشیا اور نیدرلینڈز سے ہے، جو طیارے کے حادثے کے پیچھے کارفرما مجرمانہ عوامل کی چھان بین کرنا ہے۔ بقول استغاثہ، وہ متعدد حصوں کی چھان بین کررہے ہیں، جو عین ممکن ہے کہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے نظام کے ہوں۔

استغاثہ نے کہا ہے کہ یہ پرزے فوجداری چھان بین کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے ایم ایچ17 پرواز کے حادثے کے سلسلے میں مزید معلومات فراہم ہوں گی۔

اُنھوں نے کہا کہ تفتیش کار بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے، جن میں فورینسک اور اسلحے کے ماہرین شامل ہیں، اِن پرزہ جات کے ماخذ کے معاملے کو طے کر سکتے ہیں۔

استغاثہ نے بتایا ہے کہ اس وقت کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا آیا برآمد ہونے والے پرزہ جات اور ایم ایچ 17 پرواز کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔

فلائیٹ ایم ایچ 17 گذشتہ سال 17 جولائی کو یوکرین کے دونیسک کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگئی تھی، جو خطہ روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے زیر قبضہ ہے، جو یوکرینی سرکاری افواج سے لڑ رہی ہیں۔ طیارے میں سوار سارے 298 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں زیادہ تر کا تعلق نیدرلینڈز سے تھا۔

مغربی انٹیلی جنس اداروں نے کہا ہے کہ طیارہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک روسی ساختہ میزائل لگنے سے تباہ ہوا، جسے علیحدگی پسندوں کے زیر تسلط علاقے سے داغا گیا تھا۔ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے واکے ماہرین کی جانب سے سامنے لائے گئے ابتدائی نتائج سے پتا چلتا ہے کہ یہ میزائل روسی علاقے میں نصب بیٹریوں سے داغا گیا تھا، جنھیں ممکنہ طور پر روسی اہل کار چلا رہے تھے۔

روس نے طیارے کو گرانے کا الزام یوکرین کی میزائل کو قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس واقعے کا اصل ذمہ دار کئیف ہے، کیونکہ یہ واقع یوکرین کی فضائی حدود کے اندر پیش آیا۔ یوکرین اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
گذشتہ ماہ کے اواخر میں، روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک مسودہ قرارداد ویٹو کردیا تھا، جس کی مدد سے ایک بین الاقوامی ٹربیونل تشکیل دیا جانے والا تھا، تاکہ ایم ایچ 17 پرواز کو گرانے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاتی۔

XS
SM
MD
LG