رسائی کے لنکس

عوام کے کھانے پینے کی اشیاء کا معیار بہتر بنانےکے لیےمشیل اوباما کی مہم

  • رابرٹ رافیل
  • آمنہ خان

عوام کے کھانے پینے کی اشیاء کا معیار بہتر بنانےکے لیےمشیل اوباما کی مہم

عوام کے کھانے پینے کی اشیاء کا معیار بہتر بنانےکے لیےمشیل اوباما کی مہم

امریکی خاتون اول مشیل اوباما اور ایک بڑے کاروباری ادارے وال مارٹ نے امریکہ میں فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیا کو صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند بنانے کا ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے۔ جبکہ وہ عام لوگوں کی ان تک رسائی کے لیے ان کی قیمتوں میں بھی کمی لانا چاہتی ہیں ۔یہ پراجیکٹ بچوں کے لیے صحت بخش غذا کو فروغ دینے کے لیے امریکی خاتون اول کی قومی مہم کا حصہ ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے ریٹیل سٹور وال مارٹ کا کہنا ہے کہ وہ کھانے پینے کی کئی ہزار اشیا کوزیادہ صحت بخش بنانے کے لیے ان میں تبدیلیاں کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت 2015ءتک کھانوں میں نمک اور چینی کی مقدار کم کر دی جائے گی، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں گھٹا دی جائیں گی، اور صحت بخش غذا کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

وال مارٹ کے اینڈیا تھامس کا کہناہے کہ وال مارٹ میں ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی صارف، بلکہ کسی بھی امریکی کو اقتصادی حقائق اور اپنے خاندا ن کے لیے صحت بخش غذا کے انتخاب کے درمیان فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں پیش آنی چاہیے۔

کرافٹ فوڈز اور پیپسی کولا سمیت کھانے پینے کا سامان بنانے والی کچھ کمپنیوں نے پچھلے سال اپنی مصنوعات میں نمک کی مقدار کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ میں پرچون کے سب سے بڑے فروخت کار کی حیثیت سے وال مارٹ مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے میعار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ یہ اقدامات امریکی بچوں میں موٹاپا کم کرنے کے لیے امریکی خاتون اول کی مہم کا حصہ ہیں۔

واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مشیل اوباما نے وال مارٹ کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہناتھا کہ جب بچے یہ غذا روزانہ کھائیں گے، تو انہیں چینی، نمک اور چکنائی میں کمی کا یقینا فائدہ بھی ہو گا۔ جب صحت بخش غذا کم داموں میں میسر ہو، تو بچوں کی روز مرہ غذا پر بھی اس کا اثر ہو گا۔خواہ اس کے نتیجے میں وہ ناشتے میں پھل کھائیں، دوپہر کے کھانے میں گندم سے بنی ڈبل روٹی، یا رات کے کھانے میں زیادہ سبزیاںشامل کریں۔

مشیل اوباما کا کہنا تھا کہ وال مارٹ کی اس مہم کے نتیجے میں نہ صرف مارکیٹ بلکہ ہر ہفتے وال مارٹ کی دکانوں میں خریداری کرنے والے تقریبا 14 کروڑ افراد کی خریداری کے رجحانات بھی بدل سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ میری امیدیں صرف اس ایک کمپنی کے اقدامات سے ہی وابستہ نہیں، بلکہ اس سے بھی ہیں کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم انفرادی طور پر، والدین کی حیثیت سے بھی تمام ممکن اقدامات کریں گے۔ اس مہم کا مقصد یہی ہے۔

مسز اوباما کچھ عرصے تک وال مارٹ کو کھانے کی اشیاء فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے ساتھ منسلک رہ چکی ہیں لیکن وہ اس عہدے سے2007ء میں مستعفی ہو گئی تھیں۔ ان کے اس فیصلے کے پس منظر میں ان کے شوہر کا اپنی صدارتی مہم کے دوران یہ اعلان تھاکہ وہ وال مارٹ میں خریداری نہیں کریں گے کیونکہ وہ اس کمپنی کے ملازمین کو ملنے والی تنخواہوں اور مراعات سے متفق نہیں۔

XS
SM
MD
LG