رسائی کے لنکس

مشیل اوباما نےلڑکیوں کی تعلیم کی نئی مہم کا آغاز کردیا


اپنے کلمات میں، مشیل اوباما نے کہا کہ 'تعلیم وہ واحد راستہ ہےجو یقین دلاسکتا ہے کہ یہ لڑکیاں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاکر اپنےخاندان کا سہارا بن سکتی ہیں اور اپنے ملکوں میں مکمل طور پر اہم کردار ادا کر سکتی ہیں'

عالمی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کےحوالے سے بیداری بڑھانے کےلیے امریکی خاتون اول مشیل اوباما نے ہفتےکے روز 'گلوبل سیٹیزن فیسٹیول' کی شاندار تقریب میں لڑکیوں کی تعلیم کی ایک نئی مہم کا آغاز کیا۔

تعلیم کے فروغ کی خواہاں خاتون اول مشیل اوباما کی نئی مہم'64 ملین گرلز' خاص طور پر دنیا کی ان لاکھوں لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی کےلیےسماجی اور اقتصادی مواقع فراہم کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہےجو اس وقت اسکولوں میں نہیں ہیں۔

عالمی غربت اور عدم مساوات پر بیداری کے حوالے سےنیویارک کے سنٹرل پارک میں منعقدہ گلوبل سیٹیزن میلے کےسامعین کو مخاطب کرتے ہوئے مشیل اوباما نے کہا کہ ’اس وقت 62 لاکھ لڑکیاں اسکولوں میں نہیں ہیں اور ہمارے لیے یہ بات اہم ہے کہ یہ سب ہماری لڑکیاں ہیں۔ وہ بھی تعلیم حاصل کرنےکےلیے ویسے ہی مواقع کی مستحق ہیں جیسا کہ میری بیٹیوں، آپ کی بیٹیوں اور تمام بچوں کے پاس موجود ہیں‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ'تعلیم وہ واحد راستہ ہےجو یقین دلاسکتا ہے کہ یہ لڑکیاں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاکر اپنےخاندان کا سہارا بن سکتی ہیں اور اپنے ملکوں میں مکمل طور پر اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔'

انھوں نے اس موقع پر لوگوں کو ٹوئٹر کے رجحان #ہیش ٹیگ کے ساتھ ملین گرلز کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اسکول کی تعلیم کےحوالےسےتصاویر پوسٹ کرنے کی دعوت دی ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر براک اوباما نےبھی میلے کے شرکا سے ایک ویڈیو لنک کے توسط سے بات چیت کی۔

مقررین میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، امریکی نائب صدر جو بائیڈن، گلوکارہ بیونسے، اداکار لیونارڈو ڈی کپریو، اردن کی ملکہ رانیہ اور دیگر مشہور شخصیات اور فنکار شامل تھے۔

تعلیمی مہم کی کارکن ملالہ یوسفزئی نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں پیسوں کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے پاس اربوں، کھربوں کی دولت ہے جو فوجی مقاصد پر خرچ ہوتی ہے۔ لیکن، یہ بیکار ہے۔ یہ معاشرے کے لیے مفید نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک کتاب اور ایک قلم ایک بچے کی زندگی کو تبدیل کرسکتا ہے، جبکہ بندوق ایسا نہیں کرسکتی ہے,۔ ہ ایک قلم نہیں تھا بلکہ وہ ایک بندوق تھی جس نے مجھے نشانہ بنایا۔ وہ ایک بندوق تھی جس نے میری سہیلیوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن، وہ ایک قلم تھا جس نے اصل میں ہمیں ہماری زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد کی۔

امریکی خاتون اول نے اپنی تصویر کےساتھ ہیش ٹیگ ملین گرلز کو استعمال کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ 'میں نے اپنے حق کے لیے بات کرنا اسکول میں سیکھا ہے۔ لیکن 62# ملین لڑکیوں کے پاس یہ موقع نہیں ہے' ۔

امریکی صدر نے ہیش ٹیگ ملین گرلز کے ساتھ اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ''میں شکر گزار ہوں اپنے اساتذہ کا جنھوں نے میرے تجسس کے احساس کو جلا بخشی# 62 ملین گرلز جو اسکول میں نہیں ہیں ان کے پاس بھی ایسا ہی موقع ہونا چاہیئے۔''

XS
SM
MD
LG