رسائی کے لنکس

امریکی مڈٹرم انتخابات میں پاکستانی امریکن بھی امیدوار


امریکی مڈٹرم انتخابات میں پاکستانی امریکن بھی امیدوار

امریکی مڈٹرم انتخابات میں پاکستانی امریکن بھی امیدوار

امریکہ میں اس سال کے آخر میں مڈٹرم الیکشن ہونے والے ہیں ، جن کی قومی اور مقامی سطح پر تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ نائین الیون حملوں سے قبل امریکی مسلمان خود کو با لعموم سیاست سے دور رکھتے تھے ، مگر ان حملوں کے بعد انہیں جن حالات اور تجربات سے گذرنا پڑا ، اس سے ان میں یہ شعور بیدا ر ہوا کہ انہیں اپنی آواز حکومتی ایوانوں اور پالیسی ساز اداروں میں پہنچانے کے لیے سیاست میں قدم رکھنا پڑے گا۔ چنانچہ گذشتہ الیکشن میں نہ صرف اکثر مسلمانوں نے اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کیا بلکہ کئی حلقوں میں انہوں نے انتخابات میں حصہ بھی لیا۔ جس کے نتیجے میں وہ تاریخ میں پہلی بار امریکی پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی ریاست میری لینڈ کی سینٹرل کمیٹی کی تین نشستوں کے لیے اس سال تین مسلمان امیدوار سامنے آئے ہیں، جن میں دو پاکستانی نژاد امریکی ہیں۔ان دنوں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں ، جس میں ووٹروں سے ملاقاتیں، ٹاؤن ہاؤس میٹنگز اور اپنے منشور اور ترجیحات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا اور ان کے مسائل کے بارے میں جاننا شامل ۔ پچھلے دنوں ایک ایسی ہی تقریب ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور میں ہوئی جس میں پاکستانی نژاد امریکی امیدوارحسن جلیسی نے ووٹروں سے ملاقاتیں کیں۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ملکوں سے آئے ہیں جہاں سیاست کو بالعموم اچھا نہیں سمجھا جاتا ، لیکن اس ملک میں ایسا نہیں ہے بلکہ سیاست امریکی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔

حسن جلیسی ریاست میری لینڈ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی مسلمانوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ یہاں کی سیاست کا حصہ بنیں، اور خود کوامریکی سیاسی دھارے میں شامل کریں ۔ کیونکہ یہاں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے سیاسی اداروں میں موجود ہونا ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے آپ کو امریکی سینٹ اور ڈیلی گیٹ کی پوزیشن کے لیے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔

سینٹرل کمیٹی ریاستی سطح پر سیاسی جماعتوں کے معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔حسن جلیسی کا کہنا تھا دوسرے ممالک کے برعکس امریکی سیاسی نظام میں اس کے الیکشن بھی میرٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں ۔ اور ان کی کوشش ہے کہ پاکستانی امریکیوں کو اس سیاسی نظام کا حصہ بننے کی ترغیب دی جائے جس کے لیے وہ خود اس کے ہراول دستے میں شامل ہیں۔

حسن جلیسی کا کہنا تھا کہ جب تک ہم یہ نہیں کریں گے ، ہمیں اس ملک میں برابر کا شہری نہیں سمجھا جائے گا۔

تقریب میں موجود امریکی مسلمان کانگریس مین آندرے کارسن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی مسلمان سیاسی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے خٕیال سے یہ وقت ہے کہ ہم غیرسیاسی اور غیر عملی زندگی سے نکل کر بنیادی سیاسی نظام میں آگے بڑھیں۔ اس نظام کو سمجھیں اور اس کا حصہ بنیں۔

جبکہ کانگریس مین ایلائے جا کمنز نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ وقت دور نہیں جب باقی کمیونیٹیوں کی طرح مسلمان بھی سیاسی نظام کا ایک اہم حصہ ین جائیں گے۔ انہوں نے کہا اب میں یہاں مسلمانوں کو عملی سیاست میں متحرک ہوتے اور آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں۔

حسن جلیسی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کے علاقے میں مسلمانوں کی بہت قلیل تعداد بستی ہے ، لیکن مقامی سطح پر یہودی اور عیسائی ووٹرز نے ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ وہ اسے ایک بین المذاہب سیاسی کوشش قرار دیتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG