رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ میں پانی کی قلت بحرانی شکل اختیار کرسکتی ہے

  • محمد الشناوی

مشرق وسطیٰ میں پانی کی قلت بحرانی شکل اختیار کرسکتی ہے

مشرق وسطیٰ میں پانی کی قلت بحرانی شکل اختیار کرسکتی ہے

مشرقِ وسطیٰ کے ریگستانی علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے ۔ پانی کے حقوق کے سوال پر ماضی میں سنگین جھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، لیکن سفارتکاروں کی کوششوں سے اختلافات قابو سے باہر نہیں ہو پائے ۔ ایک نئے تحقیقی مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ اگلے بیس برسوں کے اندر، پانی کی قلت ملکوں کی حدود کے اندر سیاسی اور سماجی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے ۔

ماضی میں دانشوروں نے اکثر ایسے دریاؤں پر توجہ دی ہے جو کئی ملکوں کے درمیان مشترک ہیں اور جن کے پانی کے استعمال کے حقوق پر ملکوں کے درمیان جنگ چھڑنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن واشنگٹن میں سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز یا CSIS کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق، مشرق ِ وسطیٰ میں زیر زمین پانی کی محدود مقدار ملکوں کی سرحدوں کے اندر ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے ۔

دنیا کے پندرہ ایسے ملکوں میں سے جہاں پانی کے وسائل کی قلت ہے، دس ملک مشرقِ وسطیٰ میں ہیں۔CSIS کے مڈل ایسٹ پروگرام کے ڈائرکٹرجون ایلٹرمین کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں پانی سماجی کنٹریکٹ کا بنیادی جزو ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ان حکومتوں کے کام کرنے کے انداز کا پانی سے بہت گہرا تعلق ہے ۔ پانی لوگوں کو نوازنے کا طریقہ ہے، پانی کی سہارے وفاداریوں کی تعمیر کی جاتی ہے، اور پانی کے ذریعے لوگوں کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت واقعی کچھ کر سکتی ہے ۔ اگر پانی غائب ہو جائے تو پھر حکومت کا تانا بانا منتشر ہو سکتا ہے۔ ان حکومتوں کے لیئے اور ان کے تحت جو لوگ رہتے ہیں ، ان کے لیئے یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے ۔

ایلٹرمین کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں پانی کا مسئلہ سبز انقلاب کی وجہ سے پیدا ہوا جو 1980 سے لے کر 1992 تک پورے علاقے میں پھیل گیا۔ اس زمانے میں زرعی پیدا وار کو قائم رکھنے، بڑھتی ہوئی آبادیوں کا پیٹ بھرنے، اور ریگستانوں کو سر سبز بنانے کے لیئے زیرِ زمین پانی بھاری مقدار میں استعمال کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ زیر زمین پانی کے ذخیرے ختم ہوجانے سے مشرق وسطیٰ کے ملکوں کی حکومتوں کے لیئے بڑے دور رس نتائج بر آمد ہوں گے اور انہیں اپنے عوام کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا۔

مسٹر ایلٹرمین یہ بھی کہتے ہیں کہ دیہی علاقوں سے جہاں پانی کے وسائل کم ہیں، شہروں کی طرف لوگوں کی نقل مکانی ایک بڑا مسئلہ بن جائے گی اور زیرِ زمین پانی کی کمی سے نسلی یا ملکی دھڑوں میں کشیدگی بڑھ جائے گی کیوں کہ بعض مخصوص گروپ پانی اور اس کے فوائد کے حقوق کے دعوے دار ہوں گے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب زیرِ زمین پانی داخلی استحکام کے لیئے اتنا اہم ہوتا جا رہا ہے ، مشرقِ وسطیٰ کو پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے پائیدار طریقے معلوم کرنے کی کوسشش کرنی چاہیئے۔

وہ کہتے ہیں کہ اول تو یہ سمجھنا چاہیئے کہ مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے اندر جو پانی موجود ہے ، اس تک رسائی حاصل ہو ۔ملکوں کے پانی کے وسائل خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر ملک کی حکومت کو انفرادی طور پر نہ صرف پانی کی رسد بڑھانے کے بارے میں ، بلکہ اس کی مانگ کم کرنے کے بارے میں بھی سوچنا چاہیئے ۔

نئی تحقیق کے مطابق، پانی کی رسد بڑھانے کے لیئے تو حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ استعمال شدہ بیکار پانی کو آبپاشی کے لیئے استعمال کریں تا کہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر زیادہ لمبے عرصے تک چل سکیں۔ جہاں تک مانگ کا تعلق ہے، تو تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ ملکوں کو ایسا نظام بنانا چاہیئے جس میں پانی کی بچت اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیئے ترغیبات دی جائیں ۔ پانی کو موزوں طریقے سے استعمال کرنے کے بارے میں لوگوں کو تعلیم دینا بھی انتہائی اہم ہوگا۔

ایلٹرمین کہتے ہیں کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں زیر زمین پانی 2017 میں ختم ہو جائے گا اور یمن پہلا ملک ہو گا جہاں پانی کی قلت کی وجہ سے سیاسی اور سماجی بے چینی پھوٹ پڑے گی۔ ۔ امریکہ کی سینٹر کمانڈ کے سابق کمانڈر ان چیف ، جنرل انتھونی زنّی کہتے ہیں کہ پانی کی قلت کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ عدم استحکام سے بچنے کے لیئے عالمی سطح پر تعاون ضروری ہو گا۔

ان کا کہناہے کہ اسے کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ سمجھنا چاہیئے ۔ میرے خیال میں اس کے لیئے علاقائی حکمت عملیوں سے کام لینا ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ بعض لوگوں نے چھوٹے پیمانے پر بعض مخصوص طریقے، الگ الگ ملکوں کے لیئے تجویز کیئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ طریقہ کارگر نہیں ہوگا۔ پانی کے یہ وسائل کئی معاشروں میں پھیلے ہوئے ہیں اور انہیں علاقائی سطح پر حل کرنا ہوگا۔

مشرق وسطیٰ کے لیئے امریکہ کے سابق خصوصی مندوب کی حِیثیت سے، زنی کہتے ہیں کہ فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے کسی بھی پُر امن حل میں، پانی کی تقسیم ایک بڑا مسئلہ ہو گا۔ اس سے پہلے شام اور ترکی کے درمیان دریائے فرات کے بیسن میں پانی کی تقسیم کے سوال ممکنہ بحران اور دریائے نیل کے طاس کے علاقے میں پانی کی تقسیم پر مصر اور افریقہ کے بعض ملکوں کے درمیان کشیدگی رہ چکی ہے ۔

CSIS کی تحقیق اور جنرل زنی کی سفارشات میں یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پانی کے بحران کو خطرناک شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لیئے سیاسی عزم و حوصلے اور تمام متعلقہ فریقوں کی انتظامی مہارتوں کی ضرورت ہو گی۔ اس کے علاوہ ، پانی کے استعمال کے طریقوں میں اصلاح اور عالمی سطح پر تعاون بھی لازمی ہے ۔

XS
SM
MD
LG