رسائی کے لنکس

براہ راست امن مذاکرات کے لیے صدر اوباما کا محمود عباس کو خط

  • رابرٹ برگر

امریکہ مشرق وسطی ٰ میں امن عمل میں تیزی لانے کےلیے فلسطینیوں پر اپنے دباؤ میں اضافہ کررہا ہے اور صدر براک اوباما نے فلسطینی راہنما محمود عباس کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ان سے بالواسطہ مذاکرات کے موجودہ عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے براہ راست مذاکرات کی جانب پیش رفت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ فلسطینی عہدے داروں کا کہناہے کہ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ مسٹر محمود عباس کی جانب سے انکار کی صورت میں امریکہ اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔

فلسطین کے اعلی ترین مذاکرات کار صائب ارکات نے اسرائیلی ریڈیو پر اس خط کے حوالے سے اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ ہم فوری طورپر مذاکراتی عمل بحال کرسکتے ہیں۔

تاہم ارکات کا کہنا ہے کہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو مغربی کنارےاور مشرقی یروشلم میں بستیوںمیں توسیع کی تمام کارروائیاں روک دیں اور ان علاقوں پر ایک فلسطینی ریاست کے قیام پر رضامند ہوجائیں جس پر اس نے 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کرلیاتھا۔

انہوں نے کہا کہ میرا اس پر پورا یقین ہے کہ براہ راست مذاکرات کی کنجی اب مسٹر نتن یاہو کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی ایک خاص مدت میں ان شرائط کے ایجنڈے کے بغیر مذاکرات قبول کرسکتا ہے۔

ادھر یروشلم میں اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران مسٹر نتن یاہو نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر بحال ہونے چاہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری اور بالخصوص امریکہ یہ چاہتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو چاہیے کہ وہ عذر تراشنا ترک کرکے براہ راست مذاکراتی عمل میں شریک ہو۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کو بچانے کا واحد یہی راستہ ہے۔

چنانچہ صدر عباس کو اب ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ فلسطینی رائے عامہ اسرائیل سے رعائتوں کی ضمانت حاصل کیے بغیر براہ راست مذاکرات کے حق میں نہیں ہے جب کہ عالمی کمیونٹی امن کے اس موقع کو ضائع کر نے کاالزام فلسطنیوں پر لگا سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG