رسائی کے لنکس

کیا مشرق وسطیٰ میں جاری حکومت مخالف لہر ایران کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے؟

  • لورل برومین

کیا مشرق وسطیٰ میں جاری حکومت مخالف لہر ایران کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے؟

کیا مشرق وسطیٰ میں جاری حکومت مخالف لہر ایران کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے؟

امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں مسلسل عدم استحکام کی وجہ ایران ہے ۔ لیکن بحرین اور خطے کے دیگر ملکوں میں احتجاج کی حالیہ لہرکی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں کی جا سکتی ۔ ایڈمرل مولن نے یہ بات قطر کے دارالحکومت دوحا میں اپنے خلیجی ملکوں کے دورے میں کہی ۔ اس سے قبل امریکی صدر اور سیکرٹری خارجہ ۔۔مشرق وسطی کی صورتحال کے حوالے سے ایرانی قیادت کے رویے پر تنقید کر چکے ہیں۔ امریکی ماہرین یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا انقلاب مصر کے اثرات ایران تک پہنچ سکتے ہیں؟

امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کہتے ہیں کہ ایران مشرق وسطی میں کسی موقعے سے فائدہ اٹھانے سے گریز نہیں کرتا۔ لیکن مصر اور بحرین میں شروع ہونے والی مخالفانہ تحریکوں کی ذمہ داری ان ملکوں کے اندرونی حالات کے سوا کسی چیز پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

لیکن گزشتہ ہفتے مصر اور بحرین اورپھر لیبیا میں شروع ہونے و الے حکومت مخالف مظاہروں نے ایران کے حکومت مخالف حلقوں کو بھی متحرک کر دیا ہے ۔ گزشتہ ہفتے ایران میں 2009ء کے انتخابات کے بعدسے ، جب ہزاروں ایرانیوں نے صدر احمدی نژاد کے دوبارہ منتخب ہونے پر احتجاج کیا تھا ، پہلی مرتبہ عوام کی اتنی بڑی تعداد ایک بار پھر سڑکوں پر نکلتی اور پولیس کی سختی کا نشانہ بنتی دیکھی گئی۔

ایران کے قدامت پسند حلقے ان حکومت مخالفانہ جذبات کو ہوا دینے کے لئے حزب اختلاف کے راہنماوں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ دو سال پہلے ایران میں ہونے والی حکومت مخالف ریلیوں اور حالیہ مظاہروں کے لئے بھی انہی دو شخصیات کو ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے ، لیکن حکومت مخالف تحریک کے کئی حلقے ان ایرانی رہنماوں کے سابق ایرانی حکومتوں سے تعلق کی وجہ سے ان کے خلاف بھی ہیں ۔ میر حسین موسوی سابق ایرانی وزیر اعظم ہیں اور مہدی کروبی ایرانی پارلیمنٹ کے سابق سپیکر ہیں ۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے پیٹرک کلاسن کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے ان دونوں کے خلاف مقدمات چلائے تو سیاسی غلطی ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ دونوں راہنما منظر سے غائب ہو گئے تو نئی نسل سے ابھرنے والی قیادت پہلے سے زیادہ حکومت مخالف ہوگی۔

صدر اوباما نے گزشتہ ہفتے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی مذمت کی تھی ، یہ صورتحال مصر کے برعکس تھی جہاں فوج نے حکومت مخالفیں کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کیا تھا ۔

ایرانی حکومت کا رویہ مختلف ہے۔ وہ مخالفین کے خلاف گولی چلانے اور تشدد اور گرفتاریوں کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں ۔

پیٹرک کلاسن کہتے ہیں کہ امریکہ ایران کی طرف سفارتکاری کی کوششیں کر کے ہار چکا ہے ۔ ان کا کہناہے کہ اس وقت امریکہ ایران بات چیت نہیں ہو رہی، اس لئے اوباما انتظامیہ کے پاس کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایران میں مظاہروں کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کریں ۔

مخالفین کے خلاف دو سال پہلے طاقت کے شدید استعمال کی وجہ سے اب ایران میں حکومت مخالف آواز یں زیادہ کھل کر سامنے نہیں آرہی ۔لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف جذبات سامنے آنے تک ایران بظاہر پر سکون ہی دکھائی دیتا رہے گا ۔

XS
SM
MD
LG