رسائی کے لنکس

مشرق وسطی کا عوامی انقلاب اور میڈیا کا کردار


مشرق وسطی کا عوامی انقلاب اور میڈیا کا کردار

مشرق وسطی کا عوامی انقلاب اور میڈیا کا کردار

انقلاب آنے سے پہلے مصر میں دو مختلف قسم کے ٹیلی ویژن ہوتے تھے۔ ان میں ایک تھا سرکاری ٹیلیویژن جو سرکاری ہدایات کے مطابق رپورٹنگ کرتاتھا۔ دوسرےالجزیرہ اور العربیہ جیسے بین ا لا قوامی سیٹلایٹ ٹیلی ویژن تھے جو سیٹلایٹ کے ذریعے اپنی نشریات پیش کرتے تھے اور نسبتاً آزاد تصور کیے جاتے تھے۔

آج امریکہ میں میڈیا کے ماہرین یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان مصر کے مظاہروں کی رپورٹنگ میں کیا فرق رہا اور ان کے تجربات سے باقی دنیا کے میڈیا نیٹ ورک کیا سیکھ سکتے ہیں

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے عادل اسکندری کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی حکومتیں ان مظاہروں پر کافی پریشان تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ مصر، سعودی عرب اورشام کے سرکاری چینل ان حالات پر رپورٹنگ کرتے وقت بہت محتاط تھے ۔ انہیں فکر تھی کہ کہیٕں ٹیلی ویژن پر یہ مناظر دیکھنے کے بعد ان کے ملکوں میں بھی اسی قسم کے مظاہرے شروع نہ ہوجائیں اور ایک چھوٹی سی لہر ایک بڑے سیلاب کا روپ دھار کر سب کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔

مگر وہ کہتے ہیں کہ سیٹلائٹ چینلوں کو بھی رپورٹنگ کے حوالے سے مشکل فیصلوں کا سامنا تھا۔

عادل اسکندری کا کہنا ہے کہ سیٹلایٹ چینلوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑا ہو گا کہ کیا ان معاملات پر کھل کر رپورٹنگ کی جاے یا مقامی حکومتوں کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوے خبروں اور مناظر کو دبا یاجائے۔ مگر یہ مظاہرے اتنی بڑی سطح پر ہو رہے تھے کہ ان پر پردہ ڈالنا آسان نہیں تھا۔

آخر الجزیرہ اور دوسرے سیٹلایٹ نیٹ ورکس پر وہ مناظر دکھائے جانے لگے جو مقامی نیٹ ورک نہیں دکھا رہے تھے۔ عادل اسکندری کہتے ہیں کہ نیٹ ورکس کے اس فیصلے نے سارے مشرق وسطیٰ کی نظریں ان چینلوں پر مرکوز کردیں۔

عادل اسکندری کا کہناہے کہ الجزیرہ اور العربیہ کو تو ان مظاہروں سے بہت فائدہ ہوا۔ ان کے کیمرے مظاہرین کے درمیان میں موجود تھے۔ ان چینلز کو دیکھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا کیونکہ ان کی رپورٹنگ کا پورا انداز سرکاری چینلوں سے مختلف تھا۔

مصر کی حکومت کے خاتمے کے فورا بعد ہی وہاں کے سرکاری نیٹ ورکس کو اپنا لہجہ اور رپورٹنگ کا انداز بدلنا پڑا ہے۔اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اس پورے واقعے سے مشرق وسطی ٰ کے سرکاری چینلوں نے کیا سبق سیکھا ہے۔

اسکندری کے خیال میں یہ ان کے لیے جاگنے کی ایک پکار ہے۔ مصر کی حکومت ختم ہونے کے بعد مصری چینلوں کو وہ جھوٹ تسلیم کرنے پڑ رہے ہیں جو شروع دنوں میں وہ پوری شدو مد سے بولتے رہے تھے۔

جیسے جیسے عوامی بیداری کی لہر دوسرے ملکوں میں پھیل رہی ہے ، دنیا بھر کی نظریں مشرق وسطیٰ کی سڑکوں پر جم رہی ہیں۔ مگر امریکہ میں عادل اسکندری جیسے میڈیا کے ماہرین اپنی توجہ سرکاری ٹی وی نیٹ ورکس کے نیوز رومز کی طرف کیے ہوے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ان ٹی وی نیٹ ورکس کے  فیصلے امریکہ اور دنیا کے مختلف سکولوں اور کالجوں میں ایک مضمون کے طور پر پڑھائے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG