رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ مذاکرات شرم الشیخ، یروشلم میں جاری رہیں گے


مشرق وسطیٰ مذاکرات شرم الشیخ، یروشلم میں جاری رہیں گے

مشرق وسطیٰ مذاکرات شرم الشیخ، یروشلم میں جاری رہیں گے

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس ، امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی جارج مچل ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

گزشتہ ہفتے مشرق وسطی ٰ میں امن کے لئے امریکہ کی کوششوں سے شروع ہونے والے مذاکرات کے سلسلے میں اسرائیلی اور فلسطینی رہنما 14 ستمبر کو مصر کے مقام شرم الشیخ اور 15 ستمبر کو یروشلم میں امن مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس ، امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی ایلچی جارج مچل ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے اور اسرائیلی اس شہر کو یہودی ریاست کے ایک غیر منقسم دارالحکومت کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم فلسطینی یروشلم کے مشرقی حصے کو اپنی مجوزہ ریاست کا صدر مقام بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں فریق اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر امن کے حصول کے لیے آگے بڑھیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے اتوار کو اپنی کابینہ کے اراکین سے کہا کہ جب تک معاہدہ اسرائیلی سیکیورٹی کا تحفظ کرتا ہے وہ فلسطینیوں کے ساتھ تاریخی سمجھوتے کے لیے تیا ر ہیں۔

ایک اور اطلاع کے مطابق فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب ارکات نے اسرائیلی آرمی ریڈیو سے کہا ہےکہ اب مذاکرات ختم کرکے فیصلے کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔

ارکات نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اہم مسائل ،مثلاً سرحدیں، بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق پر معاہدہ عسکریت پسند تنظیم حماس کو اسرائیل کے ساتھ امن قبول کرنے پر قائل کرسکتا ہے۔ ارکات نے خبردار کیا کہ ناکامی کی قیمت بہت زیادہ اور ممکنہ طورپر فلسطینی اتھارٹی کا خاتمہ بھی ہوسکتی ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات دو سال کے تعطل کے بعد پچھلے ہفتے واشنگن میں شروع ہوئے تھے۔

اسلام پسند عسکری گروپ حماس نے جس کے پاس غزہ کی پٹی کا کنٹرول ہے، امن مذاکرات کو مسترد کردیا ہے اور وہ یہ کہہ چکاہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف حملے جاری رکھے گا۔

XS
SM
MD
LG