رسائی کے لنکس

مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے امریکی توقعات بہت زیادہ بلند تھی: اوباما


مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے ایلچی جارج مِچل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دوبارہ امن مذاکرات شروع کرانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعرات کے روز اسرائیل پہنچے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ نے اسرائیلوں اور فلسطینیوں کو امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کے بارے میں مبالغے سے کام لیا تھا۔


مسٹر اوباما نے امریکی جریدے ٹائم کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلوں اور فلسطینیوں کو مذاکرات کی میز پر لے آنا، “ حقیقت میں مشکل ” ہے۔ یہ انٹرویو جمعرات کے روز شائع ہوا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر اُن کی انتظامیہ کو دونوں فریقوں کے داخلی سیاسی مسائل کا پہلے سے اندازہ ہوجاتا، تو وہ توقعات کو اس قدر بلند نہ کرتی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو پتا چلا کہ اُس کے لیے جراٴت مندانہ اقدامات کرنا مشکل ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس کے لیے عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس موجود ہے، جو اُن پر نظر رکھے ہوئے ہے۔


حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کو تباہ کردیا جائے۔

مسٹر اوباما نے یہ بات منصبِ صدارت سنبھالنے کے ایک سال بعد اور ایک ایسے وقت میں کہی ہے، جب مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے ایلچی جارج مِچل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دوبارہ امن مذاکرات شروع کرانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعرات کے روز اسرائیل پہنچے ہیں۔

XS
SM
MD
LG