رسائی کے لنکس

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب اسرائیلی حکومت نے طویل عرصہ سے اپنے ہاں زیر حراست فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات تین سالہ تعطل کے بعد پیر کو واشنگٹن میں دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب اسرائیلی حکومت نے طویل عرصہ سے اپنے ہاں زیر حراست فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجامن نیتنیاہو کی کابینہ نے اتوار کے روز ان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی تھی۔ کابینہ کے 13 اراکین نے رہائی کے حق میں جبکہ سات نے اس اقدام کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو ارکان نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق 104 فلسطینی قیدیوں کو مرحلہ وار رہا کیا جائے گا۔ رہائی کا یہ عمل فلسطینی صدر محمود عباس کی حکومت کے ساتھ امریکہ کے تجویز کردہ مذاکرات کے دوران چار مراحل میں مکمل ہو گا۔

قیدیوں کی رہائی کی حمایت میں ووٹ ڈالنے والے اسرائیل کے وزیرِ قانون
صیپی لیولی کا کہنا تھا کہ اس عمل کو صرف اس صورت میں عملی جامہ پہنایا جائے گا کہ فلسطینی حکومت مجوزہ مذاکرات میں سنجیدہ فریق ثابت ہو۔

صدر عباس کی حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اسرائیل کو قیدی رہا کرنا ہوں گے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان قیدیوں میں اسرائیلی شہریوں اور سکیورٹی فورسز پرگزشتہ کئی دیائیوں میں ہونے والے مہلک حملوں میں ملوث فلسطینی بھی شامل ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے متعلق اسرائیلی کابینہ کی پیشکش کو سخت گیر قوم پرست موقف رکھنے والے وزرا کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نیتنیاہو نے اپنی کابینہ کے اراکین کو بتایا کہ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ اُن کے لیے “مشکل” تھا لیکن یہ امن عمل کی بحالی کے لیے ضروری تھا۔
XS
SM
MD
LG