رسائی کے لنکس

مصر کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی تشویش

  • نیکو کولمبانٹ

قاہرہ کی ایک سڑک کا منظر

قاہرہ کی ایک سڑک کا منظر

تیونس اور مصر میں عوامی بغاوت کی وجہ سے شمالی افریقہ اور مشرق ِ وسطیٰ کے ملکوں کی حکومتوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ مغربی ملکوں اور بہت سے لوگوں کی نظریں اسلامی تحریکوں پر لگی ہوئی ہیں۔ آج کل ان میں سےبہت سے گروپوں پر سیاسی پارٹِیوں کی حیثیت سے کام کرنے پر پابندی لگی ہوئی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ اسلامی تحریکیں اس سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات سے قبل کیا لائحہ ٔ عمل اختیار کرتی ہیں۔

مصر میں موجودہ ہنگاموں کی قیادت اسلامی گروپوں کے پاس نہیں ہے ۔ تیونس میں بھی اسلامی گروپ نمایاں نہیں تھے۔ مصر میں اخوان المسلمین نے جو ملک کا سب سے بڑا حکومت مخالف گروپ ہے، کہا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوگا لیکن اس نے مظاہروں کو منظم نہیں کیا ہے ۔ احتجاج کرنے والوں میں نوجوان پیش پیش ہیں جو ملک میں رہن سہن کے خراب حالات اور آمرانہ طرز حکومت سے ناراض ہیں۔ تا ہم، اخوان المسلمین جو بحیثیت سیاسی پارٹی خلاف قانون ہے، عام لوگوں میں مقبول ہے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز کے رابرٹ ڈانن کہتے ہیں کہ اخوان المسلمین اور علاقے کے دوسرے اسلامی گروپ اب بھی اپنا اثرو رسوخ بڑھا سکتے ہیں۔’’یہ بغاوت اسلام پسندوں نے شروع نہیں کی اور نہ ہی اخوان المسلین نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔ بلکہ گذشتہ پانچ برسوں کے درمیان مصر میں بیشتر بحث لبرل اقدار اور لبرل اصولوں پر ہوتی رہی ہے اور اخوان المسلمین نے اس بحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔‘‘

اخوان المسلمین پر سیاسی پارٹی کی حیثیت سے کام کرنے پر پابندی لگی ہوئی ہے اور حکومت نے اس کے خلاف بار بار کارروائیاں کی ہیں۔ حالیہ انتخابات میں اس کے حامیوں نے آزاد امید واروں کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔ اخوان کے ایک لیڈر،عبدالماؤناؤن عبدالفتوح کہتے ہیں کہ برسوں سے، اس علاقے کے حکمراں، جیسے مصر کے صدر حسنی مبارک ،یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ اسلام پسند گروپ سیاسی طور پر مضبوط نہ ہونے پائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیئے، انھوں نے ملک کے اعلیٰ طبقے، نیز مغربی اتحادیوں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ یہ اسلامی گروپ پُر تشدد نیٹ ورکس قائم کردیں گے جو سرحدوں کے پار جا کر، مشرق ِ وسطیٰ میں استحکام کو نقصان پہنچائیں گے۔

فتوح کہتے ہیں’’یہ بالکل غلط ہے کیوں کہ اسلامی گروپس اور ساری دنیا میں اسلامی تحریکیں جدید نظریات کی حامل اور پُر امن تحریکیں ہیں۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ مغربی ملکوں کی حکومتیں، خاص طور سے امریکی حکومت، اسلام پسندوں سے خوفزدہ ہیں۔ ہاں، ٹھیک ہے، اسلامی تحریکوں میں اکا دُکا انتہا پسند بھی ہیں، لیکن ساری دنیا میں اسلامی تحریکوں کا بڑا حصہ قوم پرست ، پُر امن اور اعتدال پسند تحریکوں پر مشتمل ہے ۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ستمبر کے انتخاب میں اخوان المسلمین کس امیدوار کی حمایت کریں گے، تو فتوح نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس سال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ضرور ہوں۔ تیونس میں بھی اس سال انتخاب ہونے والے ہیں جہاں صدر زین العابدین بن علی کو جو دو عشروں سے تیونس پر حکمرانی کر رہے تھے، عوامی مطالبے پر اقتدار چھوڑنا پڑا۔

رادوان مسعودی تیونس میں پیدا ہوئے تھے ۔ وہ یو ایس سنٹر فار دی سٹڈی آف اسلام اینڈ ڈیموکریسی نامی تنظیم کے بانی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اسلامی تنظیم النهضة (Ennahda) کو، جس پر سیاسی پارٹی کی حیثیت سے کام کرنے پر پابندی لگی ہوئی ہے، انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے ۔’’تیونس کا اصل امتحان یہی ہے۔ کیا وہ سیکولر اور اسلامی پارٹیوں کے درمیان امتیاز ختم کریں گے اور کوئی ایسا مصالحانہ حل معلوم کریں گے جس سے سب مطمئین ہو جائیں۔ میں بہت پر امید ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ النهضة (Ennahda) اعتدال پسند پارٹی ہے اور 1981 میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک جمہوریت کی حامی رہی ہے ۔ ‘‘

اس گروہ کے لیڈر رچرڈ گھاننوچی بائیس برس سے زیادہ عرصے کی جلا وطنی کے بعد تیونس واپس آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی تحریک کو سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر کرائیں گے۔ ان کا استقبال کرنے والوں کے ہاتھوں میں زیتون کی شاخیں اور قرآن شریف تھے ۔اسلامی تحریکوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ النهضة (Ennahda) کا نظریہ اخوان المسلمین کے مقابلے میں زیادہ معتدل ہے ۔

یو ایس سنٹر فار کانفلکٹ انیلیسز اینڈ پری ونشن کے ڈینیئل برمبرگ کہتے ہیں کہ اگر اسلامی پارٹیاں ایسا مستقبل چاہتی ہیں جس میں انہیں ملک کے اندرقبول کیا جائے اور بین الاقوامی برادری بھی انہیں تسلیم کرے، تو انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ سخت گیر اور ظالم و جابر نہیں ہوں گی۔ جمہوریت کے نتیجے میں سب کو آزادی ملنی چاہیئے اور اکثریت کی فتح کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ دوسروں کو کچل دیا جائے۔

حالیہ دنوں میں الجزائر میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور وہاں بھی حکومت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ 1992 کے شروع میں، جب انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلمان بنیاد پرستوں کو واضح طور پر فتح حاصل ہوئی تو فوجی حکومت نے انتخابات کے نتائج کو منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد ملک میں طویل عرصے تک خانہ جنگی جاری رہی اور ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا جو آج تک نافذ ہے۔

XS
SM
MD
LG