رسائی کے لنکس

بحیرہ ایجیئن میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی


فائل

فائل

رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد تارکین وطن سمندر کے ذریعے یورپ پہنچے.

تارکین وطن کو لے جانے والی ایک کشتی ترکی اور یونان کے درمیان واقع بحیرہ ایجیئن میں ڈوب گئی، جس سے کم ازکم 17 افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔

یونان کی سمندری امور کی وزارت کا کہنا ہے کہ کشتی پر غالباً 33 سے 37 افراد سوار تھے اور ترک امدادی کارکنوں کے ساتھ مل کر 16 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

تارکین وطن کی قومیت کے بارے میں فی الوقت تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

وزارت کی ایک ترجمان کے مطابق ’امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور ہم اب بھی 17 سے 21 لاپتا لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں۔‘

رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد تارکین وطن سمندر کے ذریعے یورپ پہنچے جن میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو اپنے ملک میں جنگ، ایذا رسانی اور غربت سے تنگ آکر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

ان میں افریقہ، مشرق وسطیٰ کے علاوہ ایک بڑی تعداد شام کے باشندوں کی بتائی جاتی ہے۔

یونان ایسے تارکین وطن کا پہلا پڑاو ہوتا ہے اور ملکی تاریخ کے بدترین مالی بحران سے دوچار یونان کے لیے یہ افراد مزید مشکلات کا سبب بنے ہیں۔

XS
SM
MD
LG