رسائی کے لنکس

سیکڑوں تارکین وطن کو لانے والی کشتی ڈوب گئی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گزشتہ ہفتے پناہ کے متلاشی 880 تارکین وطن بحیرہ روم میں سفر کے دوران موت کا شکار ہوئے جس سے رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں مرنے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کر گئی۔

یونان کے حکام نے بتایا ہے کہ بحیرہ روم میں تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوب گئی جس پر سوار تقریباً 300 سے زائد افراد کو بچا لیا گیا جب کہ تین لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

یہ واقعہ یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب جمعہ کو علی الصبح پیش آیا۔

سرحدی محفاظوں کی ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ "لوگ پانی میں ڈوب رہے تھے کہ یہاں موجود دیگر کشتیوں نے انھیں بچانے کے لیے اقدام کیے اور تارکین وطن کو ساحل پر منتقل کیا۔"

ان کے بقول ان افراد کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ ڈوبنے والی کشتی کہاں سے آرہی تھی اور اس پر سوار لوگوں کو تعلق کن ممالک سے ہے۔

عام طور پر لیبیا سے یونان کا کشتیوں کے ذریعے سفر کرنے والوں میں اکثریت نائیجیریا اور گیمبیا کے لیے باشندوں کی ہوتی ہے لیکن صومایہ اور اریٹیریا کے لوگ بھی یہی سمندری راستہ اختیار کرتے ہیں۔

گوکہ زیادہ تر شامی تارکین وطن یورپ جانے کے لیے براستہ ترکی زمینی راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے یونان کے ساحل کے پاس ایک کشتی کو روکا گیا تھا جس میں شامی، افغانی اور پاکستانی تارکین وطن سوار تھے۔

گزشتہ ہفتے پناہ کے متلاشی 880 تارکین وطن بحیرہ روم میں سفر کے دوران موت کا شکار ہوئے جس سے رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں مرنے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کر گئی۔

گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران سمندر میں ڈوب کر مرنے والے تارکین وطن کی تعداد 1855 تھی۔

XS
SM
MD
LG