رسائی کے لنکس

مالی: ٹمبکٹو کی تاریخی لائبریری نذرِ آتش


نذرِ آتش ہونے والی لائبریری میں موجود تاریخی مخطوطات کی ایک فائل تصویر

نذرِ آتش ہونے والی لائبریری میں موجود تاریخی مخطوطات کی ایک فائل تصویر

'احمد بابا انسٹی ٹیوٹ' ٹمبکٹو میں موجود کئی تاریخی لائبریریوں میں سے ایک ہے جہاں لگ بھگ 30 ہزار کے قریب قلمی مخطوطات محفوظ تھے۔

مالی کے جنوبی علاقوں پر قابض شدت پسند جنگجووں نے تاریخی شہر ٹمبکٹو کی ایک لائبریری کو نذرِ آتش کردیا ہے جس میں عربی زبان کے ہزاروں قدیم قلمی مخطوطات محفوظ تھے۔

ٹمبکٹو کے میئر ہالے عثمان کے مطابق جنگجووں نے یہ کاروائی فرانسیسی اور افریقی ممالک کے فوجی دستوں کی پیش قدمی کے باعث گزشتہ ہفتے ٹمبکٹو سے پسپا ہوتے وقت کی تھی۔

واقعے کی تحقیقات کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ 'احمد بابا انسٹی ٹیوٹ' کی تاریخی لائبریری کو آگ سے پہنچنے والے نقصان کا تاحال درست اندازہ نہیں لگایا جاسکا ہے لیکن خدشہ ہے کہ لائبریری میں موجود کئی قیمتی دستاویزات آگ کی نذر ہوگئی ہیں۔

مذکورہ انسٹی ٹیوٹ ٹمبکٹو میں موجود کئی تاریخی لائبریریوں میں سے ایک ہے جہاں لگ بھگ 30 ہزار کے قریب قلمی مخطوطات محفوظ تھے۔

حکام کے مطابق لائبریری میں موجود بیشتر مخطوطات مالی کے طول و عرض میں قائم مختلف خاندانوں کے نجی کتب خانوں سے اکٹھے کرکے یہاں محفوظ کیے گئے تھے جن میں سے کئی اونٹوں کی کھال پر تحریر تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ لائبریری میں موجود کئی مخطوطات کا تعلق 13 ویں صدی عیسوی سے تھا جب ٹمبکٹو کا شہر براعظم افریقہ میں ایک بڑا تجارتی و علمی مرکز اور مسلم تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔

لائبریری میں کئی ایسے مخطوطات بھی موجود تھے جن پر تاحال تحقیق نہیں ہوسکی تھی ۔ نذرِ آتش ہونے والا انسٹی ٹیوٹ 2009ء میں نئی عمارت میں منتقل کیا گیا تھا جس کی تعمیر جنوی افریقہ کے تعاون سے ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے 'یونیسکو' نے ٹمبکٹو شہر کو اس کی تاریخی عمارات، مساجد اور مزاروں کے باعث 'عالمی ثقافتی ورثہ' قرار دے رکھا ہے۔

'انصارِ دین'نامی شدت پسند تنظیم نے شہر پر کئی ماہ تک جاری رہنے والے اپنے قبضے کے دوران میں شہر کی کئی تاریخی مزاروں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG