رسائی کے لنکس

طالبان کے بچے یا خواتین قید میں نہیں: ترجمان پاکستانی فوج


میجر جنرل عاصم باجوہ (فائل فوٹو)

میجر جنرل عاصم باجوہ (فائل فوٹو)

میجر جنرل باجوہ نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی جانب سے اس بے بنیاد الزام کا مقصد پروپیگنڈا کے ذریعے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

پاکستان کی فوج نے اُن دعوؤں کو یکسر مسترد کیا ہے جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے موقف اپنایا تھا کہ اُن کے جنگجوؤں کے بچے اور خواتین سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک خاتون یا بچہ بھی سکیورٹی اداروں کی تحویل میں نہیں ہے۔

اُنھوں نے بیان میں کہا کہ طالبان کی جانب سے اس بے بنیاد الزام کا مقصد پروپیگنڈا کے ذریعے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے عسکری عہدیدار طالبان شدت پسندوں کے اُن بیانات کو بھی یکسر مسترد کر چکے ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی تحویل میں موجود جنگجوؤں کو قتل کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے طالبان کے ایک گروپ نے یرغمال بنائے گئے فرنٹیئر کور کے 23 اہلکاروں کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ اقدام اُنھوں نے مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی قید میں اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کیا۔

تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ جب حکومت اور طالبان کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تو شدت پسندوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اُن کی عورتیں اور بچے سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں، جو اُن کے بقول سب کے لیے حیرانگی کا سبب تھا۔

’’جب ایسے افراد کی فہرست مانگی گئی تو انھوں (طالبان) نے کوئی لسٹ نہیں دی۔ اس طرح کا بیان انھوں نے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے دیا۔ میرے خیال میں تو بات چیت اب تقریباً ختم ہو گئی ہے تو وہ (شدت پسند) اس کو پروپینگنڈا کے حربے کے طور پر استعمال کر رہے تھے ۔ فوج نے اچھا کیا کہ اس کی وضاحت کر دی۔‘‘

اُدھر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک مرکزی رہنماء حمزہ شہباز نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں ایک بار پھر حکومت کے اس موقف کو دہرایا کہ دہشت گرد حملوں کے ہوتے ہوئے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

’’جو بات کرنا چاہتے ہیں اُن کے ساتھ بات چیت کریں گے، جنہوں نے ان بچوں کو قوم کے بیٹوں کو شہید کرنے کی ٹھان لی ہے اُن سے دوسرے طریقے سے نمٹا جائے گا۔ اُن (انتہائی شدت پسند) عناصر کو علیحدہ بھی ہونا چاہیئے تاکہ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ بنے۔‘‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعہ کو پشاور میں فرنیٹیئر کور کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ مسلح افواج ہر طرح کے اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی کو فوج کی صلاحیت پر شک نہیں ہونا چاہیئے۔

جنرل راحیل شریف نے فرنیٹیئر کور کے اہلکاروں سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ مقامی لوگوں کی مدد سے کئی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا اور فوج مستقبل میں بھی ہر طرح کے چینلج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
XS
SM
MD
LG