رسائی کے لنکس

پاک فوج پر سویلین حکومت کا کتنا کنٹرول ہے؟

  • آمنہ خان

پاک فوج پر سویلین حکومت کا کتنا کنٹرول ہے؟

پاک فوج پر سویلین حکومت کا کتنا کنٹرول ہے؟

پاکستان کی بین الاقوامی اور داخلی پالیسیوں میں پاکستان کی سویلین حکومت کتنی با اختیار ہے اور پاک فوج کی کارروائیوں اور فیصلہ سازی پر سول حکومت کو کتنا کنٹرول حاصل ہے، اس موضوع پر واشنگٹن کےایک تھنک ٹینک یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں منعقدہ ایک پینل کے شرکا نے پاکستان میں سکیورٹی فورسز کی نگرانی اور اندرونی اور بین الاقوامی پالیسیاں تشکیل دینے میں پاک فوج کے کردار کے ٕموضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ یو ایس آئی پی کے سکیورٹی اور نظم و ضبط سے متعلق سنٹر کے سربراہ رابرٹ پریٹو کہتے ہیں کہ پاکستان کے سکیورٹی سیکڑ پر گفتگو اور اس شعبے کی اصلاح پر ماہرین کی رائے حاصل کرنا ان کے ادارے کے ایک زیادہ بڑے پروجیکٹ کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نظم و ضبط کا ایک مسئلہ جو کئی دیگر ملکوں میں بھی موجود ہے ، وہ یہ کہ سویلین عہدیدار سیکیورٹی کے امور کو پوری طرح سمجھتے نہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی کانگرس کے بعض نمائندے غیر ملکی اراکین پارلیمنٹ کو اپنے ملک میں فوجی قیادت کے ساتھ روابط قائم کرنے اور فوج کو سول حکومت کے زیر نگرانی لانے کے لائحہ عمل میں تربیت دینے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ اوریو ایس آئی پی اس پروجیکٹ کے ذریعے یہی معلومات لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیائی امور کے ماہر شجاع نواز کہتے ہیں کہ یہ سوال امریکہ میں پہلی مرتبہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس سال پاکستان اور افغانستان سے متعلق پالیسیوں پر نئی امریکی کانگرس کی فیصلہ سازی سے قبل غیر سرکاری تنظیمیں اور تھنک ٹینکس یہ سوال اٹھا کراس موضوع کے بارے میں آگہی پیدا کرنا چاہتے ہیں یا کم از کم پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کے کچھ پہلووں کو دہرانا چاہتے ہیں۔

یو ایس آئی پی سے منسلک تجزیہ کار معید یوسف کہتے ہیں کہ پاکستان میں فوج اور حکومت کو عموما ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے اور یہ تصور پاکستان کےلیے امریکہ کی پالیسی میں بھی نمایاں رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افریقی ملکوں کی طرح پاکستان میں فوج نے اپنے آپ کو عوام پر مسلط تو نہیں کیا،اور عموما اپنی کارروائیاں آئین کی حدود میں رکھی ہیں۔ لیکن یہ کہتے ہیں کہ آج کی دنیا میں ملٹری کا اختیاراور دائرہ کار ایک حد سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا اس کو قبول نہیں کرے گی۔ اور نہ پاکستان کےلیے یہ اچھا ہے۔ اور دوسری طرف پاکستان کے سویلین اداروں کو اپنی سیاسی ساکھ بڑھانا ہوگی ۔ معید یوسف کے مطابق پاکستان کے شہری اداروں کو حکومت اور ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہو گا تاکہ جمہوریت کا نظام مستحکم ہو سکے اور سیاسی یا ترقیاتی مسائل کا حل دریافت کرنے کےلیے عوام فوج کی طرف نہ دیکھیں۔

XS
SM
MD
LG