رسائی کے لنکس

اوریگون: سرکاری دفتر پر قابض گروہ کی طویل مسلح تصادم کی دھمکی


اوریگون میں عدالتی فیصلہ کے خلاف مظاہرہ

اوریگون میں عدالتی فیصلہ کے خلاف مظاہرہ

ایک وفاقی جج نے دو فارم مالکوں کو اوریگون ریاست کی وفاقی زمینوں پر آگ لگانے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی، جس پر بنڈی اور اس کے حامیوں نے احتجاجاً برنس کے قریب جنگلی حیات کے ایک مرکز پر قبضہ کر لیا۔

ہفتے کو امریکہ کی شمال مغربی ریاست اوریگون میں جنگلی حیات کے ایک وفاقی مرکز پر قبضہ کرنے والے حکومت مخالف عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ حکام سے ’’کئی سال‘‘ تک مسلح تصادم کے لیے تیار ہیں۔

یہ عسکریت پسند گروہ کسانوں اور فارمز کے مالکوں پر مشتمل ہے جس کی قیادت امون بنڈی کر رہا ہے جس کا خاندان 2014ء میں وفاقی زمینوں پر جانوروں کے چرنے کے حقوق کے متعلق ایک اور تنازعے میں ملوث تھا۔

جنگلی حیات کے مرکز پر 100 کے قریب افراد نے قبضہ کر رکھا ہے۔

امون بنڈی نے اتوار کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’ہم جتنا وقت ضرورت ہو اس وقت تک یہاں رہیں گے۔ ہمارا کسی پر طاقت استعمال کرنے کا ارادہ نہیں۔ اگر ہمارے خلاف طاقت استعمال ہوئی تو ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘‘

ایک وفاقی جج نے دو فارم مالکوں ڈوائٹ لنکن ہیمنڈز اور اس کے بیٹے سٹیونز کو اوریگون ریاست کی وفاقی زمینوں پر 2012ء میں آگ لگانے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی جس پر بنڈی اور اس کے حامیوں نے احتجاجاً برنس کے قریب میلہور نیشنل وائلڈ لائف ریفیوج کے دفاتر پر قبضہ کر لیا۔

ان دونوں باپ بیٹے نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے آگ لگائی تھی مگر ان کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی زمینوں پر خودرو پودوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور آگ کے شعلے حادثاتی طور پر وفاقی زمینوں تک چلے گئے۔

مگر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر سرکاری املاک پر موجود ہرنوں کو مارا اور دیگر شکاریوں کو ماچسیں پکڑائیں کہ وہ جہاں جی چاہے تیلیاں جلا کر پھینک دیں۔

اوریگون کی ایک عدالت نے انہیں پانچ سال سے بہت کم قید کی سزا سنائی مگر بعد میں ایک وفاقی اپیل عدالت نے انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے حکم دیا کہ انہیں واپس جیل جانا پڑے گا اور سزا کا باقی وقت پورا کرنا ہوگا۔

وفاقی مرکز پر قبضہ کرنے والے حکومت مخالف عسکریت پسندوں کا کہنا ہے وہ ان دونوں کو واپس جیل بھیجنے کے عدالتی فیصلے پر سخت غصے میں ہیں۔

ہفتے کو ابتدائی طور پر مرکز کے باہر پر امن مظاہرے کے بعد انہوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ وفاقی حکام نے ابھی اس کارروائی پر تبصرہ نہیں کیا مگر اطلاعات کے مطابق قبضے کے وقت وہاں کوئی ملازم موجود نہیں تھا۔

XS
SM
MD
LG