رسائی کے لنکس

امریکہ کی نئی نسل

  • ٹیڈ لینڈفیئر
  • بہجت گیلانی

ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی

یہ نئی نسل ہمہ وقت اور متواتر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی ہے اور سیل فون اور ایسے ہی دوسرے ذرائع کے توسط سے دنیا بھر سے معلومات حاصل کرتی رہتی ہے

کوئی دس برس کی بات ہے جب نئی صدی کا سورج طلوع ہو رہا تھا تو امریکہ میں نوجوانوں کے لئے جنریشن ایکس یا پھر جنریشن وائی کے لفظ استعمال کئے جاتے تھے ۔

لیکن، آج کل نوجوانوں کے لئے "millennials"کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور وجہ اسکی یہ ہے کہ بیشتر نو عمر یا نوجوان یا تو صدی کے ختم ہونے سے پہلے یا پھر بعدکو پیدا ہوئے اور یہ شروعات تھی نئے ہزار سال کی ۔

بعض اوقات یہاں امریکہ کی نئی نسل کو "always-on" جنریشن کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔ یہ نئی نسل ہمہ وقت اور متواتر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی ہے اور سیل فون اور ایسے ہی دوسرے ذرائع کے توسط سے دنیا بھر سے معلومات حاصل کرتی رہتی ہے۔

نارتھ کیرو لائنا کی ایلون یونیورسٹی اور پیو انٹر نیٹ اور امریکن لائف پرا جیکٹ نے millennials کہلانے والی اسی نسل کا ایک جائزہ پیش کیا ہے اور یہ بھی کہ مستقبل ان کے لئے اپنے دامن میں کیا کچھ چھپائے ہوئے ہے۔ ایک ہزار سے زائد تیکنالوجی ماہر، عالم اور ماہرین تعلیم کے سروے پر بنیاد پذیر اس جائزے کا حال سناتے ہیں آپ کو۔

اس سروے سے معلوم ہوا کہ کہ آجکل کے نوجوان امریکی بقول اس سروے کے "hyper-connected" یا پھر کہ لیجئے کہ ضرورت سے زیادہ رابطے رکھتے ہیں اور ان کے مستقبل کے لئے یہ اچھا بھی ہے اور برا بھی۔ یعنی اس میں مثبت اور منفی دونوں ہی پہلو موجود ہیں ۔

اگر مثبت بات کریں تو Millennials بہت فعال ہیں ۔ سرعت سے کام کرتے ہیں ۔ ایک ہی وقت میں کئی کام نمٹا سکتے ہیں ۔ جو مسائل کو مختلف انداز میں پرکھتے ہیں اور معلومات کے ایک ذخیرے سے فائدہ اٹھانے کی جیسے جادوئی صلاحیت کے حامل ہیں ۔وہ سود مند اور بے فائدہ معلومات میں ایک دم تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس طرح کی صلاحیتیں اہم پیشرفت کی جانب لے جا سکتی ہیں جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

لیکن ایلون اور اور پیو پراجیکٹ نے جن ماہرین سے انٹرویو کئے انہوں نے ایک منفی پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا ۔ انہوں نے یہ پیشگوئی بھی کی کہ یہ نئی نسل دراصل فوری نتائج چاہتی ہے ۔ ان میں صبر کا فقدان ہے اور وہ سوچ بچار کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔

ان نتائج سے والدین یا ان لوگوں کو تعجب نہیں ہو گا جو نوجوانوں کو سرعت کے ساتھ کام ختم کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔

پیو پراجیکٹ کے ڈائریکٹر Lee Rainie توجہ دلاتے ہیں کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ ٹیکنالوجی سے بہرہ ور نوجوانوں میں ابلاغ کی جو بے پناہ صلاحیتیں ہیں وہ سب میں ایک طرح سے نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس طرح ان امریکیون کے درمیان نئی سماجی اور اقتصادی تقسیم پیدا ہو جائے گی جو نئے ٹولز سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں اور جو اتنے ماہر نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ لیجئے کہ ایک مختلف انداز کا نچلا طبقہ جو ٹیکنالوجی پر گرفت نہیں رکھتا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG