رسائی کے لنکس

اللہ نذر بلوچ کے زندہ ہونے یا نہ ہونے کے متعلق ابہام برقرار

  • ستار کاکڑ

سرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ اگر اللہ نذر بچ بھی گیا ہے تو اس کے خلاف سکیورٹی فورسز کارروائیاں جاری رکھیں گی تاوقتیکہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔

کالعدم علیحدگی پسند تنظیم "بلوچ لبریشن فرنٹ" کے سربراہ اللہ نذر بلوچ کے زندہ ہونے سے متعلق متضاد خبریں سامنے آنے کے بعد اس ضمن میں صورتحال واضح نہیں۔ لیکن اگر یہ علیحدگی پسند کمانڈر زندہ ہے تو صوبے میں شورش پسندی کے خاتمے کے لیے حکومت کو مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔

دسمبر کے وسط میں صوبائی انتظامیہ کی تبدیلی کے باعث سبکدوش ہونے والے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے چند ماہ قبل کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران اللہ نذر بلوچ بھی ہلاک ہوچکے ہیں لیکن گزشتہ ماہ ہی عسکریت پسندوں کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ایک وڈیو میں اللہ نذر نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے کہا کہ علیحدگی کی تحریک کو اب مزید تیز کیا جائے گا۔

اس وڈیو کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے لیکن تجزیہ کار رشید بلوچ کہتے ہیں کہ اگر یہ وڈیو درست ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ نذر نے خود کو دانستہ طور پر روپوش کیے رکھا جس کا مقصد ان کے بقول ریاست کی حکمت عملی کا جائزہ لینا ہو سکتا ہے۔

"میری ذاتی رائے ہے کہ جان بوجھ کر اس نے خود کو روپوش رکھا اور وہ دیکھتا رہا کہ اس نے آگے اس حوالےسے مزید کیا حکمت عملی طے کرنی ہے تو اس کے بعد اس نے وڈیو جاری کر دی۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ میں اس وقت بلوچستان میں ہی موجود ہوں۔"

لیکن سرفراز بگٹی کہتے ہیں کہ اگر اللہ نذر بچ بھی گیا ہے تو اس کے خلاف سکیورٹی فورسز کارروائیاں جاری رکھیں گی تاوقتیکہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار نہیں کرتا۔

اللہ نذر کی تنظیم مکران ڈویژن اور آواران کے علاقوں میں سرگرم ہے جہاں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی جاری ہیں اور حالیہ دونوں میں ہی یہاں بی ایل ایف کے ایک مقامی کمانڈر عبدالخالق کی ہلاکت کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

بلوچستان میں بعض عسکری تنظیمیں صوبے کے وسائل پر مکمل اختیار کے لیے گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث چلے آرہے ہیں۔ اس دوران سیکورٹی اداروں، دوسرے صوبوں سے بلوچ علاقوں میں آنے والوں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرنے والے ہزاروں لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومت نے بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے جلاوطن بلوچ رہنماﺅں سے کئی بار رابطے کیے جس کے نتیجے میں براہمدغ بگٹی نے بعض شرائط کے ساتھ مسلح جدوجہد ترک کرنے اور خان آف قلات میر سلیمان داﺅد نے بلوچ قبائلی جرگے سے مذاکرات کے بعد واپس وطن آنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی کے باعث یہ معاملہ سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG