رسائی کے لنکس

میزائل دفاعی نظام کا جواب دیا جائے گا، روس کا امریکہ کو انتباہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وہائٹ ہاؤس نے روسی صدر کے بیان پر محتاط ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرقی یورپ میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کے منصوبے میں کسی بھی صورت میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا

روس کے صدر دمیتری میدویدف نے خبردارکیا ہے کہ اگر امریکہ نے میزائل دفاعی نظام کے معاملے پر ان کے ملک کےتحفظات پر توجہ نہ دی تو روس اپنے میزائلوں کا رخ مشرقی یورپی کے ان علاقوں کی طرف کردے گا جہاں امریکہ ان دفاعی میزائلوں کی تنصیب کا ارادہ رکھتا ہے۔

بدھ کو ٹی وی پہ جاری کیے گئے ایک بیان میں روس کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر ان کے ملک اور امریکہ کے درمیان دفاعی میزائل نظام پر موجود اختلافات دور نہ ہوئے تو روس کے جنوبی اور مغربی حصوں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نصب کیے جائیں گے۔

وہائٹ ہاؤس نے روسی صدر کے بیان پر محتاط ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ مشرقی یورپ میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کے منصوبے میں کسی بھی صورت میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔

امریکہ کی 'قومی سلامتی کونسل' کے ترجمان ٹومی ویٹر نے امریکی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل دفاعی نظام سے روس کے جوہری دفاع کو کوئی خطرہ نہیں۔

ترجمان کے بقول امریکہ روس کے ساتھ میزائل دفاعی پروگرام پر تعاون میں اضافہ کرنا چاہتا ہے تاکہ دونوں ملکوں کی سلامتی کا تحفظ کیا جاسکے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے روس سے اس منصوبے کے متعلق کوئی بات نہیں چھپائی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ شمالی یورپ کے بعض علاقوں میں زمین اور سمندر میں دفاعی میزائل نصب کرنا چاہتا ہے جن کا مقصد ایران یا شمالی کوریا کی جانب سے کسی ممکنہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود نیٹو اور امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک کا دفاع یقینی بنانا ہے۔

امریکہ کا اصرار ہے کہ مجوزہ میزائلوں کا نشانہ روس ہرگز نہیں اور ان کی تنصیب سراسر دفاعی نکتہ نظر سے کی جارہی ہے۔ تاہم روس کا موقف ہے کہ اس طرح کے نظام کی تنصیب اس کے دفاع کے لیے خطرہ ہے جس سے خطے میں ہتھیاروں کا توازن بگڑ جائے گا۔

بدھ کو نشر کیے گئے اپنے بیان میں روس کے صدر نے مزید کہا کہ اگر اس معاملہ پر دونوں ممالک کسی سمجھوتے پر نہ پہنچے تو ماسکو واشنگٹن کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی لانے کے معاہدے اور ہتھیاروں میں کمی کے دیگر معاہدوں پر مذاکرات سے دستبردار ہونے پر بھی غور کرے گا۔

صدر میدویدیف نے اپنے خطاب میں ملک کے مغربی شہر کیلن گراڈ میں میزائلوں کی پیشگی اطلاع دینے والے ریڈار نظام کی تنصیب کا بھی اعلان کیا۔

روسی صدر کا یہ بیان امریکہ کے اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی حکام نے کہا تھا کہ وہ روس کے ساتھ یورپ میں تعینات روایتی ہتھیاروں سے لیس اپنی افواج کی معلومات کا تبادلہ معطل کر رہے ہیں۔

امریکہ نے یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان ہونےوالے ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا ہےجس کا مقصدیورپ میں محدود تعداد میں روایتی ہتھیار رکھنے سے متعلق معاہدے کی تجدید کرنا تھا۔

روس نے امریکہ کے ساتھ اپنی افواج کی معلومات کا تبادلہ چار برس پہلے ہی معطل کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG