رسائی کے لنکس

آسٹریلوی اتھارٹی کے مطابق نیا مقام تقریباً تین لاکھ انیس ہزار کلومیٹر پر محیط اور پرتھ سے 1850 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

ملائیشیا کے گمشدہ طیارے کے بارے میں نئے "قابل اعتماد شواہد" ملنے کے بعد جمعہ کو اس کے ملبے کی تلاش کا مقام بحرہند میں ایک ہزار کلومیٹر شمال مشرق کی طرف تبدیل کر دیا گیا۔

آسٹریلیا کی میری ٹائم سیفٹی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تفتیش کار کو یقین ہے کہ جہاز فاصلہ طے کرنے کے لیے پہلے لگائے گئے اندازے سے کہیں زیادہ تیزی سے پرواز اور زیادہ جلدی ایندھن استعمال کر رہا تھا۔

جمعہ کو اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ نیا مقام تقریباً تین لاکھ انیس ہزار کلومیٹر پر محیط ہے جو کہ آسٹریلوی شہر پرتھ سے 1850 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

انتہائی دور افتادہ مقام پر تلاش کی کارروائیاں خراب موسم کی وجہ سے بھی متاثر ہورہی ہیں اور آٹھ مارچ کو کوالالمپور سے عملے سمیت 239 افراد کو بیجنگ لے جانے والے بوئنگ 777 ہوائی جہاز کے "ملبے" کا تاحال سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

آسٹریلوی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ جمعرات سے موسم کی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے اور جمعہ کو دس طیارے دوبارہ تلاش کی سرگرمیوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ علاقے میں دس کشتیاں بھی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

یہ جہاز اور کشتیاں سیٹیلائیٹ سے حاصل ہونے والی تازہ تصاویر جن میں سینکڑوں تیرتی ہوئی اشیاء کی نشاندہی کی گئی، تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جمعرات کو تھائی لینڈ کی ایک ایجنسی کا کہنا تھا اس کی ایک سیٹیلائیٹ نے جنوبی بحرہند میں دو سے 15 میٹر حجم والی لگ بھگ تین سو اشیا کو تیرتے ہوئے دیکھا۔

قبل ازیں اسی مقام پر فرانس کی ایک سیٹیلائیٹ نے تیرتی ہوئی 122 اشیاء کی نشاندہی کی تھی۔ ان کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ چمکدار اور لمبائی میں تقریباً 23 میٹر تک ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شاید ان اشیاء کا تعلق گمشدہ طیارے سے نہ ہو لیکن یہ 19 روز سے جاری تلاش کی کارروائیوں میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جارہی ہے۔

ملائیشیا کے عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ سیٹیلائیٹ کی معلومات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مسافر طیارہ یقینی طور پر سمندر میں گر کر تباہ ہوا۔
XS
SM
MD
LG