رسائی کے لنکس

چترال: توہین مذہب کے الزام پر ایک شخص پر تشدد، صورت حال کشیدہ


فائل فوٹو

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جس شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بظاہر اُس کی ذہنی حالت درست نہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے پہاڑی ضلع چترال میں مبینہ طور پر گستاخانہ کلمات پر جمعہ کو مشتعل ہجوم نے مسجد ہی میں ایک شخص پر تشدد کر کے اُسے زخمی کر ڈالا۔

چترال کے ایک تھانے کے اہلکار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شہر کی ایک بڑی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ایک شخص نے مبینہ طور گستاخانہ کلمات کہے، جس پر مسجد میں موجود افراد نے اُس پر حملہ کر دیا۔

تاہم پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی اہلکار مسجد میں پہنچ گئے اور زخمی شخص کو اُس کی حفاظت کے لیے تھانے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جس شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بظاہر اُس کی ذہنی حالت درست نہیں۔

مقامی لوگوں اور پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں صورت حال بدستور کشیدہ ہے اور مشتعل افراد نے تھانے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جب مظاہرین یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ مبینہ طور پر گستاخانہ کلمات کہنے والے شخص کو اُن کے حوالے کیا جائے۔

مشتعل ہجوم نے اطلاعات کے مطابق شہر میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو نقصان پہنچایا۔

صورت حال کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اضافی نفری بھی شہر اور تھانے میں پہنچا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ ہی صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کی ایک بڑی درس گاہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں مشتعل افراد نے جرنلزم کے ایک طالب علم مشال خان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعہ کی ملک بھر میں شدید مذمت کی گئی اور سپریم کورٹ نے بھی مشال خان کو اس طرح قتل کرنے کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب ایک حساس معاملہ ہے اور قانون کے مطابق اس کی سزا موت ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے الزام کا سامنا کرنے والوں کو بعض اوقات لوگ قانون کی تحویل میں جانے سے قبل ہی تشدد کر کے ہلاک کر دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG