رسائی کے لنکس

اس گیم میں مختلف آوازیں اور اینیمیشن دماغ کو متحرک کرتی ہیں جس سے بچے کو سیکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔

شام میں گزشتہ پانچ سال سے جاری جنگ کے باعث جہاں لاکھوں افراد جان کی بازی ہار گئے وہیں ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اندرون ملک بے گھر ہونے کے علاوہ دیگر ممالک کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوا۔

اس تناظر میں ایک تکلیف دہ صورتحال یہ بھی ہے کہ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں جس سے ان کا مستقبل بھی داؤ پر لگ گیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چالیس لاکھ شامی بچے اسکول نہیں جا پا رہے جو کہ جنگ کا ہی شاخسانہ ہے۔

Enter #Edu4Syria نامی ایک اسمارٹ فون ایپلیکیشن تیار کی گئی جو کہ امریکہ، ناورے اور بعض دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے 17 لاکھ ڈالر کے مقابلے پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد شامی بچوں کو موبائل فون پر کھیل کھیل میں تعلیم و تربیت فراہم کرنا ہے۔

اس گیم کو تیار کرنے والوں میں شامل ڈاکٹر افل انج وانگ کہتے ہیں کہ بچے اپنے بڑوں کے اسمارٹ فون پر اکثر گیمز کھیلتے ہیں اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ناورے کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر اس گیم کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

جنگ کی ہولناکی بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی اور ان کی سوچ و یاداشت پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔

ناروے کی ترقیاتی و تعاون کی ایجنسی کی عہدیدار کے مطابق اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کھیل کو دلچسپ انداز میں تعلیم کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کے بقول اس گیم میں مختلف آوازیں اور اینیمیشن دماغ کو متحرک کرتی ہیں جس سے بچے کو سیکھنے کی ترغیب ملتی ہے۔

یہ ساری ایپلیکیشن عربی زبان میں ہے اور کھیل کی بنیاد پر تعلیم کے اس مقابلے کے دو فاتحین کا دسمبر میں اعلان کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG