رسائی کے لنکس

موبائل فون سے دماغ کے سرطان کا خطرہ :عالمی ادارہٴ صحت کی رپورٹ

  • شہناز نفیس

موبائل فون سے دماغ کے سرطان کا خطرہ :عالمی ادارہٴ صحت کی رپورٹ

موبائل فون سے دماغ کے سرطان کا خطرہ :عالمی ادارہٴ صحت کی رپورٹ

نیشنل انسٹی ٹیوٹ سے منسلک نورا وولکو سیل فون کے استعمال سے دماغ پر اثرات کے بارے میں کہتی ہیں کہ اُن کی تحقیق سےثابت ہوا ہے کہ انسان کا دماغ سیل فون سے نکلنے والی شعاؤں کے بارے میں بہت حساس ہے،خاص طور پر جب اس کو سر کے قریب رکھاجائے –

عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً پانچ ارب ایسے افرادجو دن میں چار گھنٹے تک موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں، دماغ میں سرطان زدہ رسولی پیدا ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں-

بہت سے سائنس دانوں نے عالمی ادارہٴ صحت کے اِس بیان کی تائید کی ہے، تا ہم اُن کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہٴ صحت نے صحت پردیگر آلات کے اثرات کے بارے میں کچھ نہیں کہا -

کمیلا ریڈ جو ایک ریسرچر اورموبائل فون کےناقدین میں سےہیں،کہتی ہیں کہ موبائل فون سے جوشعائیں نکلتی ہیں وہ بہت دراز اورسخت ہوتی ہیں، جِس کو ہمارا دماغ برداشت نہیں کرسکتا- ریڈکہتی ہیں کہ اِن ویوز سے نہ صرف سرطان کے خدشات بڑھ جاتے ہیں بلکہ اِس کےاثرات انسان کے تمام خلیوں پر ہوتے ہیں-

ریڈ نے خاص طور پرسیل فون کے انٹیناکی سکولوں کے قریب بڑھتی ہوئی تنصیب کے حوالےسےاپنے خدشات کااظہارکیا۔

اُن کے بقول: ’سائنسداں سیل فون سے پیدا ہونے والی شعاؤں کی وجہ سے صحت پرمضر اثرات سے اتفاق تو نہیں کرتے،

تا ہم، اِس بارے میں اُن میں یہ ضروراتفاق پایا جاتا ہے کہ بچوں کےمعاملے میں احتیاط کرنی چاہیئے- کچھ ماہرینِ صحت کاخیال ہے کہ اِس کے اثرات بڑے پیمانے پر دیکھے جا سکتے ہیں‘۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ سے منسلک نورا وولکو سیل فون کے استعمال سے دماغ پر اثرات کے بارے میں کہتی ہیں کہ اُن کی تحقیق سےثابت ہوا ہے کہ انسان کا دماغ سیل فون سے نکلنے والی شعاؤں کے بارے میں بہت حساس ہے،خاص طور پر جب اس کو سر کے قریب رکھاجائے –

سیل فون کےاستعمال کے بارے میں والدین کو مشورہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نورا کہتی ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ سیل فون کو سر کے قریب نہ لائیں، بلکہ سپیکر یا پھر ہیڈ فون کااستعمال کریں اور سیل کو تکیے کے نیچے بلکل نہ رکھیں۔

تاہم، بہت سے ماہرین کے مطابق ، سیل فون اور دماغ کےکینسر کےتعلق کے بارے میں سامنے آنے والے حقائق کافی نہیں ہیں اور ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG