رسائی کے لنکس

88 رکنی مجلس خبرگان رهبری میں بھی اعتدال پسندوں نے اکثرت حاصل کر لی ہے۔ یہ ادارہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے معاملات کا نگران ہونے کے ساتھ ساتھ نئے رہبر اعلیٰ کا بھی انتخاب کرنے کا اہل ہوتا ہے۔

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے پارلیمان اور مجلس خبرگان رهبری میں منتخب ہونے والوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے مفادات کے لیے کام کریں اور غیر ملکیوں کے اثرورسوخ کے خلاف کھڑے ہوں۔

ایران میں ہفتے کو ہونے انتخابات کے حتمی نتائج پیر یا منگل کو متوقع ہیں مگر غیر سرکاری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں نے دارالحکومت تہران کی تمام 30 سیٹیں جیت لی ہیں جو صدر حسن روحانی کے لیے اعتماد کا ووٹ ہے۔

ادھر 88 رکنی مجلس خبرگان رهبری میں بھی اعتدال پسندوں نے اکثرت حاصل کر لی ہے۔ یہ ادارہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے معاملات کا نگران ہونے کے ساتھ ساتھ نئے رہبر اعلیٰ کا بھی انتخاب کرنے کا اہل ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدر حسن روحانی اور سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی دونوں مجلس خبرگان کے لیے منتخب ہو گئے ہیں جبکہ ان کے 50 اتحادی بھی کامیاب ہوئے ہیں۔

مجلس خبرگان رهبری کے انتخابات بھی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ہی ہوئے تھے۔

اگرچہ توقع ہے کہ سخت گیر سیاسی جماعتیں 290 رکنی مقننہ میں اپنی طاقت کھو دیں گی مگر انہیں بڑے شہروں کے باہر اب بھی عوام کی حمایت حاصل ہے۔

حال ہی میں ایران پر کئی سالوں سےعائد عالمی پابندیاں اٹھائی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں ان خدشات کے باعث لگائی گئی تھیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ارنا نے خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا ہدف ترقی ہے۔

’’خود مختاری اور قومی وقار کے بغیر برائے نام ترقی قابل قبول نہیں۔‘‘

ارنا نے صدر روحانی کے حوالے سے ہفتے کو کہا تھا کہ انتخابات کے نتائج سے حکومت کی ساکھ اور اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔

’’مسابقت کا دور ختم ہو گیا ہے۔ اب ایران کی ملکی صلاحیتوں اور بین الاقوامی مواقع سے فائدہ اٹھا کر اقتصادی ترقی کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘

حتمی نتائج سے ظاہر ہو گا کہ ایران اعتدال پسندی اور رواداری کی جانب بڑھ رہا ہے یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG